(بسلسلہ طبقاتی کلچرکا نظریہ )
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
vs
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر
موضوع:-
رومیبِریڈ اینڈ سرکسس” (روٹی اور تماشے) کی پالیسی
قدیم روم کی یہ مشہور سیاسی حکمت عملی عوامی بے چینی کو ختم کر کے حکمرانوں کی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
وجہ تسمیہ
یہ اصطلاح رومی شاعر جیوینل (Juvenal) کے طنزیہ شعر سے لی گئی ہے:
“عوام اب صرف دو چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں: روٹی اور تماشے!”
(لاطینی: Panem et Circenses)
پالیسی کا طریقہ کار
رومی حکمرانوں نے دو بڑے طریقوں سے عوام کو مصروف رکھا:
1. مفت اناج کی تقسیم:
رومی شہریوں کو “Cura Annonae” کے تحت مفت یا سستے داموں گندم دی جاتی تھی۔ اس روایت کا آغاز 123 قبل مسیح میں گریکچی بھائیوں نے کیا، اور بعد میں جولیس سیزر اور آگسٹس نے اسے مضبوط کیا۔
2. مفت تفریحی پروگرام:
گلادی ایٹرز کی لڑائیاں، جنگلی جانوروں کے شکار، بحری جنگوں کی نقل اور رتھ دوڑ جیسے خون ریز کھیل کروائے جاتے تھے۔ کولوسیم جیسے عظیم الشان اسٹیڈیمز میں سال بھر میں سینکڑوں تقریبات منعقد ہوتی تھیں۔
سیاسی مقاصد
اس پالیسی کے پیچھے کئی سیاسی عزائم کارفرما تھے:
عوامی غصے کو بھٹکانا:
جب مہنگائی، کرپشن یا ظلم کے خلاف عوام میں غصہ بڑھتا، تو انہیں تماشوں میں مصروف کر کے احتجاج کی فضا ختم کر دی جاتی۔
ریاست پر انحصار بڑھانا:
عوام کو مفت سہولیات دے کر حکمرانوں کا محتاج بنایا جاتا، تاکہ وہ سیاسی طور پر غیر فعال رہیں۔
مقبولیت حاصل کرنا:
بادشاہ یا سیاست دان عوامی تقریبات کے ذریعے اپنی مقبولیت بڑھاتے تھے، جیسے کہ نیرو یا کالیگولا۔
نفسیاتی اثرات
تماشوں کی عادت نے عوامی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا۔ لوگ خون ریز تفریح سے جذباتی تسکین حاصل کرنے لگے اور سیاسی معاملات میں عدم دلچسپی عام ہو گئی۔ یوں شہری اپنی ذمہ داریوں سے کٹ کر صرف عیش و عشرت کے طلبگار بن گئے۔
تنقیدی جائزہ
فلسفی سینیکا نے اس پالیسی کو “انسانی وحشت کی تکمیل” قرار دیا۔ معاشی لحاظ سے بھی اس کا بڑا نقصان یہ تھا کہ ریاست کا بجٹ ان تقریبات پر خرچ ہوتا، جب کہ اصل مسائل نظر انداز ہوتے۔ مشہور مورخ ایڈورڈ گبن کے مطابق یہی پالیسی رومی جمہوریت کے زوال کی بڑی وجہ بنی۔
جدید دور سے مماثلت
آج بھی کئی حکومتیں کھیلوں اور مفت اسکیموں کو اسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ “کھیل سیاست” میں عوام کو کرکٹ یا فٹبال جیسے ایونٹس میں الجھا کر بڑے قومی مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ کچھ ممالک میں پاپولزم کے نام پر فلاحی اسکیموں کو عوامی شعور دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مطالعہ کے لیے تجویز کردہ کتب
The Decline and Fall of the Roman Empire — Edward Gibbon
SPQR: A History of Ancient Rome — Mary Beard
Satire X — Juvenal (اصل لاطینی متن)
یہ پالیسی آج بھی دنیا بھر کے آمرانہ نظاموں میں کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے — کیونکہ “جب تک عوام کو روٹی اور تماشے ملتے رہیں، وہ سوال نہیں اٹھاتے”۔