(بسلسلہ طبقاتی کلچر کا نظریہ)
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
vs
مشنری اینڈ پوٹنشل کلچر
موضوع: اصول احسان
(فیض یابی اور فیض رسانی کا اصول)
“فیض یابی” یعنی خیر حاصل کرنا اور “فیض رسانی” یعنی خیر بانٹنا ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ یہ دونوں عمل قرآن حکیم کے اُس اصول کی عملی تفسیر ہیں جو سورۃ الرحمٰن کی آیت “هل جزاء الإحسان إلا الإحسان” میں بیان ہوا ہے۔ یعنی “کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے؟”۔ اس آیت میں “احسان” کو ایک مسلسل اور غیر مشروط عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو نہ صرف انسانوں بلکہ پوری کائنات کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہے۔ ذیل میں اس کی وضاحت پیش کی جاتی ہے۔
1. فیض یابی اور فیض رسانی کا باہمی ربط
فیض یابی کا مطلب ہے خُدا کی طرف سے ملنے والی رحمت، علم، دولت یا صلاحیت کو قبول کرنا۔
فیض رسانی کا مطلب ہے اسی رحمت کو دوسروں تک پہنچانا۔
قرآنی اصول کے مطابق، جیسے درخت بارش کا پانی جذب کرتا ہے اور پھر پھل دے کر اُسے دوسروں میں بانٹتا ہے، ویسے ہی انسان پر لازم ہے کہ وہ خُدا کی نعمتوں کو گردش میں رکھے۔
مثال کے طور پر زکوٰۃ اور صدقہ کا نظام، جس میں دولت کو روکنے کے بجائے بہانے پر زور دیا گیا ہے۔
2. احسان کا بدلہ احسان ہی کیوں
قرآن کا یہ اصول بتاتا ہے کہ احسان ایک لازوال سائیکل ہے۔
جب آپ کسی پر احسان کرتے ہیں، تو وہ احسان کسی نہ کسی صورت میں آپ کی طرف لوٹتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک غریب کو کھانا کھلانا آپ کو روحانی سکون عطا کرتا ہے۔
حدیث ہے کہ خدا اُس شخص پر رحم کرتا ہے جو لوگوں پر رحم کرتا ہے۔
3. علم الاحسان: فیض کے تین درجات
صوفیاء اور اسلامی فلاسفہ کے مطابق فیض کے تین درجے ہوتے ہیں
فیضِ اقدس: خُدا سے کائنات کی طرف روحانی برکات کا نزول
فیضِ مقدس: انسان کی اپنی ذات میں ان برکات کو جذب کرنا یعنی فیض یابی
فیضِ مرسل: ان برکات کو دوسروں تک پہنچانا یعنی فیض رسانی
قرآنی مثال کے طور پر سورۃ البقرہ میں ایک دانے کی مثال دی گئی ہے جو سات بالیں اُگاتا ہے اور ہر بال میں سو دانے ہوتے ہیں۔ یہ فیض کی گردش کی علامت ہے۔
4. فیض یابی اور فیض رسانی کو جدا کرنے کے نقصانات
اگر ہم فیض کو روک لیں یعنی صرف فیض یابی پر اکتفا کریں، تو یہ اخلاقی اور معاشی زوال کا باعث بنتا ہے
مادہ پرستی بڑھتی ہے، جیسے دولت کو ذخیرہ کرنا جس کی مذمت سورۃ التوبہ میں کی گئی ہے
روحانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جیسے لالچ، تکبر اور بے حسی
سماجی عدم توازن بڑھتا ہے، یعنی امیر اور غریب کے درمیان خلیج پیدا ہوتی ہے
5. عملی اقدامات: فیض کو گردش میں کیسے رکھا جائے
زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے مال اور علم کو بانٹا جائے
خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مشن بنایا جائے، بغیر کسی امتیاز کے
دعا اور استغفار کے ذریعے خُدا سے فیض مانگا جائے اور اس پر شکر ادا کیا جائے
اخلاقی تجارت کی جائے، جہاں نفع کے ساتھ ساتھ معاشرے کا فائدہ بھی پیش نظر ہو
ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے
نتیجہ
قرآن کا اصول “هل جزاء الإحسان إلا الإحسان” ہمیں سکھاتا ہے کہ احسان ایک ایسا پودا ہے جو صرف اُس وقت پھلتا ہے جب اُس کی آبیاری کی جائے۔ فیض یابی اور فیض رسانی کو جدا کرنا اس پودے کو جڑ سے کاٹنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خُدا کی دی ہوئی نعمتوں کو گردش میں رکھے تاکہ یہ فیض نسل در نسل منتقل ہوتا رہے اور معاشرہ عدل، محبت اور خیر کی طرف بڑھتا ہے۔
—
میرے نقطہ نظر کے مطابق،
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
یعنی دولت اور طاقت کی ثقافت
اور
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر یعنی خدمت اور صلاحیتوں کی ثقافت کے درمیان بنیادی فرق نصب العین اور اخلاقی بنیادوں پر ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد، جیسے جرنیل، ججز، ڈاکٹر، انجینئر، مالیاتی ماہرین، عمرانیات کے ماہرین، سیاسی اور قانونی ماہرین، اور اہلِ ثروت، جاگیردار، سرمایہ دار وغیرہ، اپنی دولت و اہلیت کو صرف دولت آفرینی، بڑے عہدوں تک رسائی، اور شہرت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی زندگی میں خدمتِ خلق، انسان پروری یا بہبودِ عام کا کوئی مؤثر پروگرام شامل نہیں ہوتا۔
یہاں قرآن کا اصولِ احسان ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں “فیض یابی اور فیض رسانی” کا اصول سکھاتا ہے، تاکہ ایک ایسا سماج اور ریاست وجود میں آئے جہاں حسنِ معاشرت، عمدہ تمدن، نظم و نسق، معیاری معیشت، اخلاقی برداشت اور شرافت کا بول بالا ہو۔ یہ دراصل قانونِ فطرت ہے کہ جس طرح خدا نے ہم پر احسان کیا، ہمیں دولت اور طاقت کے سرچشموں تک رسائی عطا کی، ویسے ہی ہمیں چاہیے کہ ہم کمزور، ناتواں اور مایوس طبقات کی مدد کریں، ان کی بے بسی اور ناامیدی کو ختم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
ویلتھ اینڈ پاور کلچر کا بنیادی اصول ہوس اور خودغرضی ہے
خصوصیات
دولت اور طاقت کو ذاتی مفاد، عزت اور کنٹرول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
معاشرے میں امتیازی مراعات کو برقرار رکھا جاتا ہے، جیسے سیاسی اشرافیہ اور کارپوریٹ لابی
کمزور طبقات کا استحصال کیا جاتا ہے، جیسے مزدوروں کو کم اجرت دینا
مثال
ایک ڈاکٹر جو صرف زیادہ فیس کے لیے مریضوں کا استحصال کرے
ایک جج جو رشوت لے کر انصاف کو مسخ کر دے
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر کا بنیادی اصول فیض رسانی ہے
خصوصیات
ہر فرد اپنی صلاحیتوں اور عہدے کو خدمتِ خلق کے لیے استعمال کرتا ہے
قدرتی وسائل اور ریاستی اختیارات کو انصاف اور ہم آہنگی سے تقسیم کیا جاتا ہے
کمزور طبقات کی خودی کو پروان چڑھانے پر زور دیا جاتا ہے
مثال
ایک ڈاکٹر جو غریبوں کا مفت علاج کرے
ایک انجینئر جو دیہاتوں میں پینے کے صاف پانی کا بندوبست کرے
ایک جج جو کمزوروں کے حق میں بے لاگ فیصلے دے
قرآنی اصول ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہے
سورۃ الرحمٰن کی آیت ہے
“هل جزاء الإحسان إلا الإحسان”
کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے
یہ آیت مشنری کلچر کی روح کو واضح کرتی ہے۔ جو لوگ فیض یاب ہوتے ہیں، یعنی جنہیں علم، دولت یا اختیار ملتا ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کو فیض پہنچائیں۔ یہ ایک مسلسل چکر ہے۔ جتنا زیادہ آپ دوسروں کو دیں گے، اتنا ہی زیادہ خدا آپ کو عطا کرے گا۔
عملی اقدامات: فیض رسانی کو کیسے رواج دیا جائے
الف۔ تعلیمی نظام کی اصلاح
ڈاکٹرز، انجینئرز اور قانون دانوں کی تربیت میں اخلاقیات اور خدمتِ خلق کو لازمی جزو بنایا جائے
مثال: ترکی کی وقف یونیورسٹیاں، جہاں طلبا سماجی خدمت کے منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں
ب۔ قیادت کی تربیت
سیاست دانوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو عدل اور شفافیت کی تربیت دی جائے
مثال: ملائیشیا کے مہاتیر محمد کا دور، جہاں اقرباپروری کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے
ج۔ معاشی نظام میں انصاف
زکوٰۃ، صدقات اور وقف کو منظم طریقے سے تقسیم کیا جائے
مثال: ایران کی کمیٹی برائے امور مستضعفین، جو غریبوں کی مدد کرتی ہے
د۔ سماجی بیداری
میڈیا کے ذریعے فیض رسانی کی کامیاب مثالوں کو اجاگر کیا جائے، جیسے فلاحی اسپتال اور مفت اسکول
مثال: پاکستان میں شوکت خانم ہسپتال، جہاں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے
نتیجہءبحث
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر ہی مستقل کامیابی کی کنجی ہے۔ ویلتھ اینڈ پاور کلچر وقتی کامیابی تو دے سکتا ہے، لیکن یہ معاشرے کو تقسیم، ناانصافی اور اخلاقی زوال کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ مشنری کلچر معاشرے کو استحکام، عدل اور روحانی ترقی فراہم کرتا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ احسان صرف ایک اخلاقی عمل نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ جس معاشرے میں ڈاکٹر، انجینئر، جج اور جرنیل اپنی صلاحیتیں کمزوروں کی خودی کی نشوونما کے لیے استعمال کریں گے، وہی معاشرہ حقیقی کامیابی حاصل کرے گا۔
حدیث ہے
لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے
(المعجم الکبیر للطبرانی)