نقطہءنظر :
صوفی ادبیات کی اصطلاح میں
“کائناتی اصول احسان”
فیض یابی اور فیض رسانی کا اصول ہے۔
جس طرح نباتات ضیائی تالیف کے عمل سے اپنی نشونما کر کے فطرت سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اس کے بعد اپنے وجود کو فیض رسانی کا سرچشمہ بناتے ہیں۔ تمام خلق خدا کے لیے بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب ۔
یہی کائناتی اصول احسان پیغمبرانہ حکمت اور صوفی ادبیات کی روح ہے اسی لیے ارفع تصوف کو احسان بھی کہا جاتا ہے۔ اور تصوف کا وحدت ادیان کا نظریہ بھی اسی اصول احسان پر تشکیل دیا گیا بقول حافظ شیرازی
با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام
لیکن وہ جدید مسلم ذہن اس اصول احسان کی تمنا تو کرتا ہے لیکن قبول اس لیے نہیں کرتا کیونکہ اس کے ذہن کی تشکیل ملوکیت کی لادینی سیاست ملائیت کی مذہبی لادینیت اور مستشرقین کے فتنہ انگیز معروضی فلسفے سے تشکیل پاتی ہے۔
تنقیدی جائزہ:
اصولِ احسان بطور کائناتی قانون
صوفی ادبیات میں احسان محض اخلاقی وصف نہیں بلکہ ایک کائناتی اصول ہے۔ یہ اصول فیض یابی اور فیض رسانی کے باہمی تسلسل پر قائم ہے، جس کی مثال نباتات کی ضیائی تالیف (Photosynthesis) سے دی جاتی ہے۔ یہ تمثیل نہایت بلیغ ہے کیونکہ اس میں:
اخذ (فیض یابی) اور عطا (فیض رسانی) کی وحدت ہے
ذاتی بقا اور اجتماعی نفع میں تضاد نہیں بلکہ ہم آہنگی ہے
صوفیا کے نزدیک جو وجود فیض کو روک لے وہ حیات سے کٹ جاتا ہے، اور جو فیض کو بلا امتیاز بہنے دے وہ خدا کی صفتِ رحمت کا مظہر بن جاتا ہے۔ اسی لیے احسان کو تصوف کی معراج اور روحِ پیغمبرانہ کہا گیاہے۔
_________
احسان اور پیغمبرانہ حکمت
حدیثِ جبریل میں احسان کو یوں بیان کیا گیا:
“أن تعبد الله كأنك تراه”
یہ تعریف محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ وجودی شعور کو شامل ہے۔ پیغمبرانہ حکمت میں:
خدا سے تعلق۔۔۔مخلوق سے تعلق میں ڈھلتا ہے
عبادت۔۔۔ خدمت میں تبدیل ہوتی ہے
ایمان ۔۔۔ اخلاقِ کائنات بنتا ہے
اسی لیے صوفی روایت میں ارفع تصوف اصول احسان سے عبارت ہے، اور یہ مذہب کی قانونی و ظاہری سطح سے اوپر اٹھ کر اس کے باطنی و آفاقی جوہر کو ظاہر کرتا ہے۔
___________
وحدتِ ادیان اور اصولِ احسان
وحدتِ ادیان کا صوفی تصور کسی عقیدے کو مٹانے کا منصوبہ نہیں بلکہ رحمت کے دائرے کو وسیع کرنے کا شعور ہے۔ حافظ شیرازی کا شعر
با مسلماں اللہ اللہ،با برہمن رام رام
یہ مذہبی بے وفائی نہیں بلکہ اخلاقی وفاداری کی بلند ترین صورت ہے۔ یہاں اصل مرکز:
خدا کے نام نہیں بلکہ خدا کی صفتِ رحمت ہے اور یہی اصولِ احسان ہے جو مذہبی سرحدوں کو انسان دشمن بننے سے روکتا ہے۔
___________
جدید مسلم ذہن کی فکری تشکیل: ایک تنقیدی جائزہ
(الف) ملوکیت کی لادینی سیاست
ریاستی طاقت نے مذہب کو کنٹرول کا آلہ بنایا۔اخلاقی اصول کو سیاسی وفاداری میں بدل دیا۔ اس عمل میں احسان جیسا آفاقی اصول خطرناک بن گیا کیونکہ وہ اطاعت کے بجائے شعور پیدا کرتا ہے،خوف کے بجائے محبت کو بنیاد بناتا ہے،چنانچہ ملوکیت نے فقہ کو فروغ دیا، تصوف کو نہیں۔
(ب) ملائیت کی مذہبی لادینیت
ملائیت نے مذہب کو رسوم میں قید کیا ۔احسان کو “بدعت” یا “کمزوری” قرار دیا۔یہاں علم ،عقیدہ اور عمل کے درمیان ایک گہرا تضاد پیدا ہوگیا۔
احسان چونکہ سوال اٹھاتا ہے کہ “کیا تمہارا دین انسان کو فائدہ پہنچا رہا ہے؟”
اس لیے یہ مذہبی اقتدار کے لیے خطرہ بن گیا۔
(ج) مستشرقین کا معروضی فلسفہ
مستشرقین نے تصوف کو یا تو نفسیاتی فرار یا ہندومت کا عکس یا غیر اسلامی عنصر ثابت کرنے کی کوشش کی۔
اس سے جدید مسلم ذہن میں اپنے ہی روحانی ورثے پر شرمندگی یا دفاعی جارحیت پیدا ہوئی۔ یوں احسان کبھی “غیر سائنسی” کہہ کر رد ہوا کبھی “غیر اسلامی” کہہ کر
تمنا اور انکار کا تضاد
بات یہ ہے کہ جدید مسلم ذہن احسان کی تمنا تو کرتا ہے مگر قبول نہیں کرتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دل اخلاقی سکون چاہتا ہے مگر ذہن طاقت، شناخت اور غلبے کی سیاست میں الجھا ہے
احسان انسان کو بدلتا ہے،
جبکہ جدید مذہبی بیانیہ دشمن کو بدلنے پر اصرار کرتا ۔
تصوف کوئی ثانوی یا اضافی روایت نہیں بلکہ اسلام کے پیغمبرانہ جوہر کی حفاظت ہے جب تک اصولِ احسان کو اخلاق سے نکال کر کائناتی قانون ،مذہب سے نکال کر انسانی قدر نہیں بنایا جائے گا،
تب تک مذہب سیاست کا ایندھن اور انسانیت کی ضد بنا رہے گا۔