عشق و ہوس

عشق کسی محبوب شے کے حصول کی شدید خواہش بھی ہے، کسی گلبدن کو پانے کی شدید آرزو بھی ہو، کسی محبوب ہستی کا منظور نظر ہونے کی شدید طلب بھی ہے، محبوب ہستی کے قرب و وصال کی شدید جستجو بھی۔ یوں سمجھیے کہ کسی محبوب شے یا محبوب ہستی کو چاہنے اور پانے کی شدید طلب و کشش جو بیقراری کی لطافتوں سے معمور ہو۔ عشق کے معنی و مفہوم کی تشکیل کرتی ہے۔ عشق و عاشق و معشوق یا طلب و طالب و مطلوب کے درمیان ایک انتہائی نازک معاملہ ہے جس کا محرک جمالیاتی مسرت، روحانی سرور یا جنسی آسودگی ہو سکتی ہے۔ عشق کے معروف تصورات میں عشق حقیقی اور عشق مجازی شامل ہیں۔ بعض مفکرین خدا کے ساتھ انسان کے عشق کو عشق حقیقی کہتے ہیں بعض اس کا انکار کرتے ہیں کہ انسان اور خدا کے درمیان عشق ممکن نہیں اس لیے کشف المحجوب میں حب الہی کے موضوع پر بحث ہے مگر عشق حقیقی پر کوئی گفتگو نہیں ہے۔ بعض مفکرین عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ عشق رسول اور اپنے پیر و مرشد کے ساتھ محبت کو عشق مجازی کے مفہوم میں پیش کرتے ہیں۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کے کا عشق ایمان افروز بھی ہے ولولہ انگریز اور فکر انگیز بھی وجہ حیرت یہ ہے کہ کس طرح اپ نے عرب کے صحرا نشینوں میں نگاہ عشق و مستی پیدا کردی جن کی نظر ہمیشہ سے پیکر محسوس کی خوگر رہی تھی۔ اپ کی جماعت کا ہر فرد ہمہ وقت ایک ان دیکھے خدا کی راہ میں اپ کے اشارہ ابرو پر جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے پرجوش دکھائی دیتا ہے۔ کمال عشق و جنوں کا یہ عالم کہ جان دے کر بھی کہیں کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا عسق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حقیقت تو یہ ہے کہ بقول احمد رضا خان بریلوی اصل الاصول بندگی اسی تاجور کی ہے تاریخ انسانی میں یہ اپ کے صحابہ کرام کی جماعت ہے جس نے یہ کر دکھایا کہ اسم محمد سے دہر میں اجالا کیسے کیا جاتا ہے۔ظلمتوں کو کیسے مٹایا جاتا ہے۔ قوت عشق سے ہر پست کو بلند و بالا کیسے کیا جاتا ہے۔ تحریک پاکستان کے اکابرین نے اپنے ذوق یقین اور قوت عشق سے فرنگی غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا انہوں نے اسی ریاست مدینہ کا خواب دیکھا تھا مگر اس خواب کی تعبیر اس لیے نہ مل سکی کہ عقابوں کے نشیمن پر زاغوں نے تصرف کر لیا۔ جب اکابرین ملت جیسا عشق و جنوں نہ رہا تو اشرافیہ فتنوں کا شکار ہو گئی۔ جس نے ہمارے مذہب ،اخلاق ،قانون اور ادب کو تباہ و برباد کر ڈالا ہم اس زبوں حالی کا شکار اس لیے ہوئے کہ عشق و ہوس کے درمیان امتیازات رفع ہو گئے ۔امتیاز ناقص و کامل مٹ گیا اور یہ تصور بھی زائل ہو گیا کہ عشق و ہوس میں ما بہ الامتیاز کیا ہے۔ (تحریر۔اکرم الوری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *