و- 26ویں آئینی ترمیم کے مضمرات

اعلی انسانی اقدار مٹتی نہیں ہیں۔صرف ان کے حامل بدل جاتے ہیں۔ جس سماج اور ریاست میں اعلی انسانی اقدار کا خیال و سوال قانون سازوں کے اذہان سے محو ہو جائے وہ اعلی فضائل و اقدار کی حامل نہیں رہتیں۔ قانون کا وظیفہ فضائل واقدار کا تحفظ کرنا ہے ۔جب سماج اور ریاست اقدار سے بے بہر ہو جائیں تو قانون سازی کا عمل آئین کی کتاب سے جمہوریت کی خوشبو کشید کرنے کی اداکاری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پاکستان میں حکومت و ریاست کون چلا رہا ہے؟ اس کا جواب ہے پاکستانی اشرافیہ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ پاکستان کا مستقبل وہی ہو گا جو پاکستانی اشرافیہ چاہے گی کیونکہ پاکستان کا ماضی اور حال بھی وہی ہے جو پاکستانی اشرافیہ چاہتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ کیا چیز ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔ پاکستانی اشرافیہ دنیا کی انمول اور نادر چیز ہے پاکستانی اشرافیہ کے لوگ سمجھوتہ ایکسپریس اور سمجھوتہ ایئر لائنز کے مسافر ہیں۔ یہ دونوں سروسز ویلتھ اینڈ پاور کلچر (Wealth & Power Culture) میں کامیابی سے چلتی ہیں منافع بخش رہتی ہیں لیکن مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر (Missionary & Potential Culture ) میں ناکام ہو جاتی ہیں.خسارے میں چلی جاتی ہیں.کیونکہ ان دونوں سروسز کا کوئی مشن ہوتا ہے نہ ہی ان میں کوئی پوٹینشل. اپ خود بھی جانیے ,جانچیے, پرکھیے کہ کیا یہ بات صحیح ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ارباب سیاست سمجھوتہ ایکسپریس اور سمجھوتہ ایر لائنز کے مسافر ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سیاسی سفر کا دورانیہ اور مدت ملازمت کا تعین امریکہ کی سیاسی الہیات کے اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔سمجھوتہ سروسز میں سفر کرنے کی اہلیت اور شرائط جھوٹ، منافقت حیلہ سازی ،مکر و فریب اور عہد شکنی میں کمال مہارت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔پاکستانی اشرافیہ جیم ٹرائیکا پلس + ہے جیم ٹرائیکا میں جرنیل ،ججز اور جرنلسٹ کا ایک با اثر طبقہ شامل ہے جبکہ پلس میں جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور بیوروکریسی وغیرہ کا ایک خاص طبقہ ہے۔ 26ویں ائینی ترمیم کا پس منظر ،اس کی ڈرافٹنگ ،منظوری کا طریق کار اور اسکے مقاصد کے مطالعہ سے مزکورہ بالا حقائق از خود اشکار ہو جاتے ہیں۔

26ویں ائینی ترمیم میں کے اہم نکات

1… پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم 2…. سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافہ 3….ججز اور جرنیلوں کی مدت ملازمت میں توسیع 4۔۔۔۔۔۔آئینی بینچ کی تشکیل۔ 5۔۔۔۔۔۔۔ شہریوں کی نظر بندی سے متعلق سیکورٹی فورسز کے اختیارات میں اضافہ 6۔۔۔۔۔ ملٹری سے متعلق ایک متنازع شق کو حذف کرنا 7۔۔۔۔۔ صوبائی ایڈوکیٹ جنرل اور کونسلز بھی اپنی متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں قانونی بحث میں شریک ہو سکیں گے 8۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے ججز کی کارکردگی پر نظر ثانی کے لیے چیف جسٹس اف پاکستان کو با اختیار کیا گیا ہے۔ 9۔۔۔۔۔۔۔۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم کے نام کابینہ کی سفارشات پر معترض ہونے کے عدالتی اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ 26 ویں ترمیم انتہائی اہمیت کے حامل قوانین کی ایک سیریز ہےجسے موجودہ حکومت نے پارلیمان میں بڑی کامیابی سے منظور کرایا مگراس کی اہمیت اور نتائج و اثرات سے یکسر صرف نظر کیا گیاہے۔ دانشوروں تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں نے اس کے مختلف اہم پہلووں پر خوب طبع آزما ئی کی ہے۔ چند فکر انگیز ارا اپ کی دلچسپی کے لیے پیش کرنا چاہوں گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ یہ صرف 26 ویں ترمیم ہی پہلی متنازع ترمیم نہیں ہے۔ ہماری پارلیمانی تاریخ میں کوئی ترمیم غیر متنازع نہیں رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایسے ائین میں کسی مثالی ترمیم کی امید رکھنا عبث ہے جو ائین خود مثالی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ ترمیم غیر جمہوری قوتوں کی تخلیق بتائی جاتی ہے یعنی یہ ترمیم جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان باہمی سمجھوتے کا واضح ثبوت ہے ۔۔۔۔۔۔اس ترمیم پر پارلیمان میں کوئی بحث نہیں کی گئی۔ سمجھوتہ تھیوری کو ہماری سیاسی تاریخ میں وسیع تر قومی مفاہمت سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس لئے اکثر قوانین پر بحث و مباحثہ پارلیمانی روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔مذکورہ ائینی ترمیم کی ترتیب و تدوین سے لے کر منظوری تک کا عمل Art of deceptiveness یعنی غیر ذمہ دار اشرافیہ کی سیاسی چال ہے۔۔۔خود غرضانہ مقاصد کی تکمیل کا طریقہ واردات خود غرضانہ مفادات کے حصول کی سمجھوتہ جدوجہد ہے۔ کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے بہرحال دانشور کی جرات اندیشہ لائق تحسین ہے اس حوالے سے جے یو ائی کی قیادت کمال کی مہارت رکھتی ہے اخر انہوں نے اس پارلیمان سے سمجھوتہ کر ہی لیا جس کے مینڈیٹ کو ناجائز سمجھتے تھے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے بہرحال انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بدلتی رتوں سے اپنا مطلب کشید کرنا خوب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض حلقوں کی رائے یہ بھی ہے کہ اس ترمیم کے نتیجہ میں سیاسی طاقت کے کھیل میں جرنیلوں کی ثالثی کا کردار بڑھ جائے گا اور پہلےسے شکستہ جمہوری عمل پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ 26 ویں ترمیم پر ایک معصومانہ تبصرہ ہے اب تک پاکستانی سیاست میں فوجی آمریت رہی ہے یا فوجی نیابت۔ اج بھی یہی صورتحال ہے۔ اسی لیے پاکستانی جمہوریت کو ایسٹیبلشمنٹیرین ڈیموکریسی Establishmentarian Democracy

بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔

موجودہ مخلوط حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے. اس لیے قانون سازی کا اخلاقی، قانونی اورعقلی جواز نہیں رکھتی۔ عقلی اور اخلاقی جواز کا سوال اس سماج اور ماحول میں اٹھایا جاتا ہے جہاں اقدار قابل احترام ہو ں ،جہاں اقدار کی موت پر ہر سو نوحہ خوانی ہو وہاں عقلی اور اخلاقی جواز کا سوال بے معنی ہے ، بے سود ہے۔ دریں حالات دانشور اشرافیہ پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ظالم و مظلوم( اشرافیہ اور عوام ) دونوں کی مدد اور رہنمائی فرمائیں . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہ عوام اور ارباب اختیار کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کیسے کم یا ختم کیا جا سکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ وہ یہ بھی رہنمائی کریں کہ پاکستانی ریاست کو کس ائینی ترمیم کے ذریعے ڈی کولو نا ئیزڈ (Decolonised) اور ڈی فیوڈلائزڈ( Defeudalised) کیا جا سکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہ حکومت اور ریاست کے اداروں میں وہ لوگ کیسے لائے جا سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں اعلی عہدوں کے اہل ہوں اپنے نی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے کی نہ صرف اہلیت رکھتی ہوں بلکہ اعلی اقدار کے پابند بھی ہوں۔ القصہ مختصر کیا پاکستانی عوام بھی اپنی ارزوؤں امنگوں اور تمناؤں کے مطابق اپنی تاریخ رقم کر سکیں گے یا پھر وہ بدستور اشرافیہ کی بد سیرتی کے گرد و غبار میں ہی جیتے رہیں گے۔ ) دونوں کی مدد اور رہنمائی فرمائیں . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہ عوام اور ارباب اختیار کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کیسے کم یا ختم کیا جا سکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ وہ یہ بھی رہنمائی کریں کہ پاکستانی ریاست کو کس ائینی ترمیم کے ذریعے ڈی کولو نا ئیزڈ (Decolonised) اور ڈی فیوڈلائزڈ( Defeudalised) کیا جا سکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہ حکومت اور ریاست کے اداروں میں وہ لوگ کیسے لائے جا سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں اعلی عہدوں کے اہل ہوں اپنے نی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے کی نہ صرف اہلیت رکھتی ہوں بلکہ اعلی اقدار کے پابند بھی ہوں۔ القصہ مختصر کیا پاکستانی عوام بھی اپنی ارزوؤں امنگوں اور تمناؤں کے مطابق اپنی تاریخ رقم کر سکیں گے یا پھر وہ بدستور اشرافیہ کی بد سیرتی کے گرد و غبار میں ہی جیتے رہیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *