فطرت انسانی کی ثنویت
فطرت انسانی میں خودغرضی کا عنصر
چین میں فطرت انسانی کا موضوع علم قانون کے بڑے ستونوں میں سے ایک ہے۔
1۔۔۔۔۔چینی علمائے قانون کے نزدیک
……..انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ آیا انسان میں اچھائی یا برائی پیدائشی ہے ؟
……..آیا لوگوں کی بنیادی صلاحیتیں متضاد قسم کی فطرت رکھتی ہیں یا ہم اہنگ ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ ان کے نزدیک عوام کی بھاری اکثریت خود غرضی پر مبنی مزاج رکھتی ہے یعنی عوام کی اکثریت خود غرض ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ افراد کو ان کی خود غرضی سرگرم اور متحرک رکھتی ہے۔ اس لیے افراد سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہمیشہ ہی حسن اخلاق کا پاس رکھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔چینی علمائے قانون یہ یقین نہیں کرتےکہ سرکاری اہلکار ہمیشہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ایک جائز اور غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کریں گے۔
……… طویل سیاسی جدوجہد کا جائزہ لیں تو خود غرضی ہی غالب نظر اتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔افراد کو اسانی سے دوسروں کے مفادات کی قیمت پر ان کی خود غرضیوں کے باعث اسانی سے اپنے مقاصد کی جانب رغبت دلائی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔چینی علمائے قانون کے نزدیک فطرت انسانی میں جو خود غرضی کا عنصر پایا جاتا ہے اسے نہ ختم کیا جا سکتا ہے نہ ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
……….وہ اس امکان کو بھی رد کرتے ہیں کہ لوگ اپنی خود غرضانہ فطرت پر غالب ا سکتے ہیں
……….لیکن اس بات کا امکان ہے کہ استثنائی صورت میں کسی اخلاقی نصب العین کے ذریعے افراد کی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
………. کسی سیاسی نظام میں حاکم اور محکوم دونوں کا انفرادی اخلاق کوئی اہمیت نہیں رکھتا
………ہر جگہ اور طبقات میں ارباب اختیار کی چلتی ہے
قانونی مفکرین واضح اور غیر جانب دار میںعارات کو نظام چلانے کے لیے بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔
……..فطرت انسانی غیر متبدل خودغرضانہ مطالبات رکھتی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ قلت اجناس سماج میں نراج کا باعث بنتی ہے جبکہ اجناس کی فراوانی کا مطلب صرف یہ ہے کہ لوگ نراج اور تصادم میں نہیں پڑتے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مہذب ہو گئے ہیں۔
لوگوں کو ان کی غیر متبدل خودغرضانہ خواہش و طلب سرگرم رکھتی ہیں۔ وہ جو بھی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حاصل کر سکتے ہیں جہاں سے بھی اور جس سے بھی یہ مفاد حاصل کرنے ہو ں۔
……. انسانی خود غرضی کسی ریاست کے لیے دھمکی یا خطرے سے بڑھ کر ایک سرمایہ بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت کو قابل اور قابل اعتماد عملہ اور سٹاف میسر نہیں آ سکتا۔سماج کے ہر فرد کی طرح اشرافیہ کا ہر فرد بھی اپنے مفادات کی تلاش میں رہتا ہے ان مفادات کے باعث ہی انہیں سرکاری مشینری میں لایا جا سکتا ہے۔
افراد کو اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایک ایسے طریق کار کے ذریعے جو ریاست کے مفادات کے لیے سود مند ہوں نہ کہ ریاست کے مفادات کے خلاف ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف وہی سیاسی نظام فعال اور موثر ہو سکتا ہے جو انسانی خود غرضی کے مفروضے پر قائم ہوتا ہے۔ وہ سیاسی نظام جو صرف اعتماد اور وقار کی بنیاد پر قائم ہو بڑی سیاسی پریشانی کا باعث بنتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزرا اور سرکاری اہل کاروں کی طبیعت اور مزاج کو پیش نظر رکھ کر حدود و قیود چیکس اینڈ کنٹرول کا نظام قائم کیا جاتا ہے ۔
دوہری فطرت انسانی
Dual Human Nature
کے پیش نظر قانونی حدود و قیود قائم کی جاتی ہیں۔انعام اور سزا کا نظام موثر سیاسی گرفت کا ضامن ہوتا ہے۔
جب جزا سزا کا نظام قائم کر دیا جائے تو جزا و سزا کے حوالے سے عوام کی طبیعت و مزاج کی تفتیش و تحقیق بہت اہم ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عوام کو جنگی یا زرعی امور اور مقاصد کے لیے متحرک نہیں کیا جا سکتا اگر لوگ ان مقاصد کو اپنے ممکنہ مفادات کے متعلق حالات کی کمی بیشی کی بنیاد پر انہیں خطرناک یا تلخ تصور کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فطرت انسانی میں خود غرضانہ طلب کے مضمرات کے پیش نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔ہین فائی کہتا ہے کہ وہ جو منسٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں سزا سے ڈرتے ہیں اور جزا کی امید میں سرگرمی دکھاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ واحد حقیقت پسندانہ راستہ ایک سیاسی نظام ہے جو کنفیوشس کی تعلیمات کے مثالی کردار پیدا کرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نظریہ یہ نہیں ہے کہ انسان اچھے ہوتے ہیں بلکہ یہ کہ انسانی فطرت ذاتی مفاد کے تحت سرگر سرگرم ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔یہ فرد کے ذاتی مفاد میں ہے کہ وہ اصول و قوانین کی پابندی کرے۔
سماجی نظام کی تشکیل کے لیے انسانی کردار کی تشکیل ضروری ہوتی ہے بشرطیکہ اصول و قوانین کا نفاذ غیر جانبداری سے وسیع پیمانے پر کیا جائے
(تحریر۔۔۔ اکرم الوری) ۔جاری ہے۔۔۔۔۔
