امام غزالی فرماتے ہیں
خدا نے خواہش کو ادمی پر متعین کر دیا تاکہ وہ خوراک، پوشاک اور مکان کا تقاضا کرے۔ انسان دنیا میں ان تین مقاصد کے حصول کے لیے گونا گوں مشاغل میں مصروف ہو گیا، یہ سب لوگ اپنی پیٹ پوجا ،اپنے بدن و مکاں کی ارائش و زیبائش اور حفاظت و سالمیت چاہتےہیں ۔
امام فرماتے ہیں
خوراک، پوشاک اور مکان ان تین مقاصد کے حصول کے لیے دنیا میں کوئی ادمی تنہا کام نہیں کر سکتا۔سب ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ انسان کی باہمی ضروریات نے سب کو اکٹھا کر دیا ہے یوں انسانی سماج کی تشکیل عمل میں ائی ۔سماج کی تشکیل کے بعد سورتحال یہ بنی کہ
1۔۔۔۔سماج افراد کا مجموعہ ہے 2۔۔۔۔افراد خواہشات سے عبارت ہیں۔
3۔۔۔۔۔خواہشات متضاد بھی ہیں متصادم بھی۔
4۔۔۔۔۔خواہشات اعتدال پر رہتیں بھی ہیں نہیں بھی رہتیں۔
5۔۔۔۔افرادکی خواہشات اور مفادات میں باہمی ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔
6۔۔۔۔۔۔خواہشات کے ٹکراؤ سے عداوتوں نے جنم لیا
7۔۔۔۔۔کوئی بھی اپنا حق دوسرے کو دینے پر راضی نہیں ہوتا
8 سب ایک دوسرے کے در پے رہنےلگے۔
افراد اور طبقات کی خواہشا ت و مفادت کے ٹکراؤ سے سماج میں فساد و نراج پیدا ہوا۔
نراج کے خاتمے،امن کے قیام اور سماج کی تنظیم کے لیے ح،مت و۔ ریاست کے قیام کی ضرورت پیش ائی لہذا نراج کے خاتمے کے لیے انتظامیہ عدلیہ اور مکننہ جیسے ریاستی ادارے وجود میں ائے۔
ہوا یہ کہ حکومت و ریاست میں کام کرنے والے حکام قاضی اور علماء و فقہاء اگرچہ دیگر پیشہ وروں کی طرح ہاتھ سے کام نہیں کرتے لیکن جو کام وہ سرانجام دے رہے ہیں یہ پیشے ہیں یہ سرکار کے خزانے سے اس کا معاوضہ اور تنخواہ لیتے ہیں جس سے اپنی خوراک، پوشاک اور مکان کا انتظام کرتے ہیں
اولاد ادم کی بدقسمتی کہ مقتدر قوتوں اور حلقوں نے اپنے عہد و پیماں کا پاس نہ کیا۔ یہ ناخلف لوگ اپنے حلف سے مکر گئے۔انہوں نے اپنے فرائض کی تکمیل کی بجائے خود خواہشات کی تسکین اور خودغرضانہ مفادات کے حصول لیے سابقہ شیطانی کھیل شروع کردیا۔
ریاست اور سماج سے فساد و نراج کو ختم کرنے کی بجائے خود اس میں شدید اضافہ کرتے چلے گئے۔ سماج کے عطا کردہ اختیارات امانت نہ رہے غاصبانہ قبضے کا ذریعہ بن گئے۔ خود غرض خواہشات طاقت کے مراکز کی خواہشات حد اعتدال سے تجاوز کرتی چلی گئیں۔ قومی مقاصد پر خود غرضانہ مقاصد غالب ا گئے۔عوام اور ریاست کی اس بحرانی کیفیت کو ہوس کی حکمرانی سے تعبیر کرتے ہیں۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ اس طرز حکمرانی کی ائینہ دار ہے
الہی کیسے ہوتے ہیں جنہیں ہے بندگی خواہش
ہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے
ہر قوم کی اشرافیہ میں دنیاوی جاہ و حشمت کی ہوس پائی جاتی ہے۔کسی میں کم ،کسی میں زیادہ حتی کہ ذات پات کے قانون کی تشکیل کے باوجود بھی برہمن اقتدار کی ہوس پر قابو نہ پا سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ضعیف ہمیشہ محکوم قوی مانا اور سمجھا گیا ہے معاہدہ عمرانی عوام اور اشرافیہ کے درمیان ہو یا ضعیف و قوی فریقین کے درمیان، غالب طاقتور عناصر کو اخلاقی نظم و ضبط راس نہیں اتا تھا۔
مقام افسوس ہے کہ قابل فخر تہذیب و ترقی کے باوجود بھی عالمی استعمار کی نفسیات توسیع پسندی اور ہوس کی حکمرانی سے مغلوب ہے۔
اقوام متحدہ کا منشور انسان پروری اور عالمگیر اخوت کے اصولوں پر مبنی ہونے کے باوجود عالمی طاقتوں کی ہوس و خود غرضی کے باعث غیر موثر اور غیر فعال ہو چکاہے۔
عالمی سماج اندرونی نزا ع و اختلاف کی لعنت سے مبرا نہ رہ سکا ۔
اقوام متحدہ کا ادارہ سراسیمہ دنیا کو امن و امان اور جمیت خاطر کی دولت عطا کر سکتا ہے مگر بخشی تھی خود غضبناک جذبات اور ہوس اقتدار کے ہاتھوں عالمی انسانی سماج انتشار و افتراق فتنہ تفریق کا شکار ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔زی عناصر(زور ،زر،زن ،زمین) کے حصول کی ہوس تسخیر مسرت کے ثمرات حاصل کرنے کی خواہشوں میں سب سے بری خواہش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکمرانی کی ہوس خونریزی اور بربریت کی شرمناک مثالیں رقم کی ہیں۔کیونکہ حکومت ہاتھ لگ جائے تو باقی زی عناصر پر از خود حق ملکیت مل جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریصی جزبات اپنے اہداف کے حاصل کرنے میں اچھے اور برے اخلاق و اعمال کے درمیان تمیز نہیں کرتے۔
اپنے منصوبوں کو چھپانے کے لیے جرائم سے کام لیتی ہے۔ اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انہیں نیکی کے بیس میں پیش کرتی ہے اور تو اور اس نے مذہب کو بھی اپنا اعلی کار بنانے میں کبھی پس و پیش نہیں کیا لڑائی کی خواہش نے مذہب کا بھیس بدل کر دنیا کو بڑی دہشت ناک مصیبتوں کا اماج کا بنایا ہے روم کے پاپاؤں نے اپنے دنیاوی اقتدار کو قائم رکھنے کی انتھک کوششوں کی بدولت مہذب دنیا کو انسانی خون کے سیلاب میں غرق کر دیا اسلام کے پیشواؤں یعنی عباسیوں مصری فاطمیوں اور امیوں نے دینی و دنیاوی اختیار اعلی کے ان ابلہ فریبانہ دعؤں کو جو ان کے خوشامدیوں نے تراشے بڑے ذوق و شوق سے اپنا لیا اور رعایہ کی مکمل اطاعت حاصل کرنے کی ارزو میں عالم انسان اسلام کو خونی کشمکشوں کا ہنگامہ زار بنا دیا