تصور حقیقت

ہر انسان زندگی کا مفہوم و مقصدجاننا چاہتا ہےتاکہ زندگی کے معنی ومفہوم کی روشنی میں ایک تصور قائم کرہے۔ یہ تصور “تصور حقیقت” کہلاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔ نظم ہستی میں انسان ،خدا اور کائنات کے نام سے تین بڑی حقیقتوں یعنی حقائق ثلاثہ سے ہم واقف ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان ان حقائق اور ان کی باہمی نسبتوں کی بنیاد پر اپنا تصور حقیقت تشکیل کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جس کی روشنی میں اپنی زندگی کا اجمالی اور تفصیلی خاکہ ترتیب دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ ہر طبقہ اپنے تصور حقیقت کو تقدس کا درجہ دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی فرد یا گروہ کی سماجی سیاسی معاشی مذہبی اخلاقی سرگرمیوں کو سمجھنا ہو تو اس کے تصور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تصور حقیقت ہمیں بتائے گا کہ اس فرد یا گروہ قوم یا ریاست کا تصور انسان ،تصور خدا یا تصور کائنات کیا ہے۔
انسانی سماج جنگ و امن، دوستی و عداوت، لین دین کے معاملات سماجی معاشروں سیاسی تحریکات سے عبارت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔سب ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں ایک دوسرے کو سکھاتے ہیں

انسانی ذہن کا تراشیدہ زندگی کا اجمالی اور تفصیلی خاکہ محدود ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایک محدود تصور حقیقت پر ہوتی ہے۔ اسے محض ایک جزوی سچائی کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جاتا ہے جزوی سچائی کی بنیاد پر ہی اسے پذیرائی ملتی رہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *