“جنگ کی اصولی مذمت اور دفاع کی اصولی حمایت کے درمیان کوئی تضاد نہیں بلکہ صداقت کی دوہری ذمہ داری کا اظہار ہے ” (جلیل عالی)
مسئلے کی تفہیم کے لیے عرض ہے کہ
۔۔۔۔ استعمار دو ہیں۔
۔۔۔۔ ایک اندر ہے ،دوسرا باہر ہے ایک ظاہر میں ،دوسرا باطن میں
۔۔۔۔ استعمار کیا چاہتا ہے استعمار کا سب سے بڑا مقصد اپنے ہدف کو کمزور کر کے اپنا الہ کار بنانا ہے تاکہ وجود کے تمام وسائل کو تصرف میں لا کر اپنے لیے سامان مسرت کا اہتمام کرے ۔
فرد سماج ،قوم اور ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج اپنے اندر چھپے ہوئے اور خارجی استعمار کی شناخت کرنا ہوتا ہے۔
۔۔۔اول
استعمار کی شناخت وجود کی وحدت و یکسانیت کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔دوم
استعمار عیار ہے سو بھیس بدل لیتا ہے۔ طرح طرح کی چالیں چلتا ہے۔ کمزور اذہان اور کمزور طبیعتیں اس کی چالوں کے سامنے سپر انداز ہو جاتے ہیں لیکن چیتے کا جگر اور شاہیں کا تجسس ہو تو کوئی استعمار نہ چھپ سکتا ہے نہ ہی وجود کو آلہء کار بنا سکتا ہے۔
متحدہ ہندی قومیت اور مخلوط ہندی سماج میں مسلم قوم کو داخلی اور خارجی استعماروں نے محکوم بنانے کی کوشش کی، روپ بدلے کئی چالیں چلیں لیکن اقبال اور جناح جیسے ہمارے مسلم اکابرین نے دونوں استعماروں کی چالوں اور منصوبوں کو اپنے فکر و تدبر سے ناکام بنا دیا۔
خدا کا شکر ہے کہ اج پاکستانی قوم ایک ازاد مملکت رکھتی ہے
لیکن اج بھی پاکستانی قوم کو داخلی و خاجی استعماریت چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے پاکستانی قوم داخلی وخارجی علاقائی اور عالمی سامراج کی چالوں سے پوری طرح واقف ہے
استعمار ہر سطح پر کبھی وجود کی بقا کا مسئلہ پیدا کرتا ہے کبھی وجودیاتی بحران کے اسباب پیدا کرتا ہے ۔
وجود یاتی بحران کے خلاف لڑنے کا طریقہ کار اور ہے وجود کی بقا کے خلاف لڑنے کی حکمت عملی اور ہے ۔
وجود یاتی بحران کے خلاف فرد کی سطح پر لڑنے کا طریقہ کار حرائی طریقہ کار ہے۔کیونکہ نجات دیدہ و دل کے لیے یہی حکمت عملی سود مند رہی ہے نفس کشی کی حکمت عملی قابل مذمت ہے کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈال دے ۔
اسی طرح جب وجود کی بقا کا مسئلہ خارجی استعمار پیدا کرے تو اسے رجز کا موسم سمجھا جائے نہ کہ ا س سے نمٹنے کے لیے امن کے گیت گائے جائیں۔
