رومیوں نے عیسائیت کو کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

(سلسلہ طبقاتی کلچر کا نظریہ)
ویلتھ اینڈ پاور کلچر 
vs
 مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر
:- موضوع
رومیوں نے عیسائیت کو کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
 اس سلسلے میں ان  رومی رسومات کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے عیسائیت کی روح کو سلب کرنے میں اہم کردار ادا کیا
رومی سلطنت نے عیسائیت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں ایک منظم اور ہمہ جہت حکمت عملی اپنائی، جس نے نہ صرف مذہب کی روح کو مسخ کیا بلکہ اسے سلطنت کی مرکزیت اور طاقت کا آلہ کار بنا دیا۔ اس سلسلے میں رومی رسومات کی تین اہم جہتیں قابل ذکر ہیں:
سیاسی استحکام کے لیے مذہب کا استعمال
قسطنطین اعظم نے 312ء میں ملویئن پل کی جنگ سے پہلے خواب میں صلیب کو دیکھنے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد اس نے عیسائیت کو اپنی فتح کا نشان قرار دیا۔
325ء میں نقیہ کی کونسل بلا کر اس نے تثلیث جیسے عقائد کو سرکاری قانون کا درجہ دیا۔ اس کا مقصد مذہبی انتشار ختم کر کے سلطنت کو مستحکم کرنا تھا۔
380ء میں شہنشاہ تھیوڈوسیوس نے عیسائیت کو رومی سلطنت کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ دیگر مذاہب پر پابندیاں لگائی گئیں، بت پرستی کے مندروں کو گرا کر کلیساؤں میں تبدیل کیا گیا، جیسا کہ پینتھیون کو سانتا ماریا روٹوندا چرچ بنایا گیا۔
رومی شہنشاہوں نے خود کو خدا کا نائب یا زمین پر اس کا نمائندہ کہنا شروع کیا۔ جسٹینین اول نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ وہ خدا اور انسان کے درمیان
واسطہ ہے۔
 ثقافتی رسومات کا عیسائیت میں انضمام
رومی تہوار ساتورنالیا، جو دسمبر میں منایا جاتا تھا اور جس میں شراب نوشی، قمار بازی اور دیگر اخلاقی انحراف شامل تھا، کو کرسمس میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگرچہ نام بدلا، مگر رسمیں وہی رہیں۔
یہودی فسح (Passover) کو ایسٹر میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کی تاریخ یہودی کیلنڈر سے الگ کر دی گئی تاکہ یہودی اثرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
رومی سورج دیوتا میترا کی علامت سورج چکر کو یسوع اور دیگر مقدسین کے سروں پر اپنایا گیا۔ اسی طرح مصری دیوی آئسیس کے مجسمے، جن میں وہ اپنے بیٹے ہورس کو دودھ پلاتی دکھائی دیتی تھی، کو مریم اور یسوع کی شبیہات میں تبدیل کر دیا گیا۔
رومی عدالتوں کی عمارات، جنہیں باسیلیکا کہا جاتا تھا، کو کلیساؤں میں بدلا گیا۔ سینٹ پیٹرز باسیلیکا اس کی واضح مثال ہے۔ ان عبادت گاہوں میں شہنشاہ کی نشست کو پوپ کی کرسی میں تبدیل کیا گیا اور عدالت کی رسومات کو مذہبی عبادات کا حصہ بنا دیا گیا۔
 مذہبی اداروں کا سیاسی آلہ کار بننا
رومی شہنشاہوں نے پوپ کو Pontifex Maximus کا لقب دیا، جو دراصل بت پرست دور کا اعلیٰ ترین مذہبی عہدہ تھا۔ اس اقدام سے پوپ کو مذہبی کے ساتھ ساتھ سیاسی اختیارات بھی حاصل ہو گئے۔
پوپ لیو دہم نے گناہوں کی معافی بیچنے کا سلسلہ شروع کیا، جس کا مقصد رومی خزانے کو بھرنا تھا۔ کہا گیا کہ جیسے ہی سکہ صندوق میں گرتا ہے، روح جنت میں چلی جاتی ہے۔ یہی عمل مارٹن لوتھر کے احتجاج اور اصلاحِ کلیسا کا سبب بنا۔
صلیبی جنگوں کا آغاز بیت المقدس کی بازیابی کے نام پر ہوا، مگر ان کا اصل مقصد مشرقی دولت پر قبضہ کرنا تھا۔ چوتھی صلیبی جنگ میں عیسائیوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور ہزاروں عیسائی قتل کیے گئے۔
عیسائیت کی روح کے سلب ہونے کے اثرات
حضرت عیسیٰ کی توحیدی تعلیمات، جن میں خدا کی وحدانیت پر زور دیا گیا تھا، کو بدل کر تثلیث کا تصور پیش کیا گیا، جو افلاطونی فلسفے سے متاثر تھا۔
حضرت عیسیٰ کے اس ارشاد کے باوجود کہ وہ شریعت کو منسوخ کرنے نہیں آئے، پولس نے شریعت کو لعنت قرار دے دیا اور ختنہ، سبت اور طعام کے احکام کو منسوخ کر دیا۔
رومی قانون نے غلامی کو قانونی اور مذہبی حیثیت دے دی۔ غلاموں کو گونگے اوزار (Instrumentum Vocale) کہا گیا، اور انہیں انسانی حیثیت سے محروم کر دیا گیا۔
 رومی عیسائیت کا تنقیدی جائزہ
رومی سلطنت نے عیسائیت کو سیاسی طاقت کے لیے ایک آلہ کار میں تبدیل کر دیا۔ اس تبدیلی کے تین بڑے مقاصد تھے:
 سلطنت کی وحدت: مذہبی ہم آہنگی کے ذریعے نسلی، لسانی اور جغرافیائی تفریق کو ختم کرنا
. اقتصادی کنٹرول: زمینوں، محصولات اور کلیسائی ڈھانچے پر قبضہ
ثقافتی غلبہ: یونانی فلسفہ اور رومی رسوم کو مذہبی تقدس دے کر انہیں دائمی حیثیت دینا
قرآن اس عمل کو تحریف قرار دیتا ہے اور ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جو خدا کی طرف وہ بات منسوب کرتے ہیں جو اس نے نازل نہیں کی۔
۔۔۔۔۔شہنشاہ کی الوہیتپوپ کو خدا کا نائب قرار دینا
۔۔۔۔عوام کو حکومتی اقتدار کی اطاعت پر مجبور کرنا
۔۔۔۔ساتورنالیا تہوار کرسمس (25 دسمبر) مشرکانہ روایات کو برقرار رکھنا
۔۔۔۔میترا کا سورج چکر یسوع اور مقدسین کے سر پر ہالو دیومالائی علامات کو تقدس دینا
۔۔۔۔۔۔باسیلیکا (عدالتی عمارت) کلیساؤں میں تبدیل کرنا
۔۔۔۔۔ رومی اقتدار کی مذہبی توثیق کرنا
Pontifex Maximus
پوپ کا مذہبی و سیاسی لقب بن جانا
….مذہبی اداروں کو ریاست
حکمت عملی کا حصہ بنانا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *