-:موضوع
وجودیاتی بحران/روحانی قلبی اضطراب
-:ابتدائیہ
دنیا استعماری قوتوں اور استعماری گماشتوں کے سنگ دلانہ ظلم و ستم سے اج بھی بہت کم واقف ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ 17ویں صدی سے لے کر اج تک دنیا میں اکثر جتنی انسانی ابادیوں ، تہذیبوں اور اقوام پر سیاسی و معاشی بربادی
مالی و جانی تباہی ائی ہے اس میں عالمی قاتلوں اور لٹیروں (استعماری قوتوں) کا ہی بنیادی کردار ہے۔ اج بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ پہلے سے زیادہ سنگدلی اور شقی القلبی کے ساتھ جاری ہے۔
دنیا میں ہمیں اج جو عالمی اضطراب نظر اتا ہے یہ در اصل استعماری قوتوں اور ان کے استعماری گماشتوں کے وجودیاتی بحران اور داخلی اضطراب کا نتیجہ ہے کیونکہ باطن (وجود/ برتن ) میں جو کچھ ہوتا ہے وہی ظاہر میں باہر اتا ہے۔
فرنگیوں کے بارے اقبال نے یہی حقیقت بیان کی ہے۔“چہرہ روشن ،اندروں چنگیز سے تاریک تر “
دنیا استعماری قوتوں اور استعماری گماشتوں کے سنگ دلانہ ظلم و ستم سے اج بھی بہت کم واقف ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ 17ویں صدی سے لے کر اج تک دنیا میں اکثر جتنی انسانی ابادیوں ، تہذیبوں اور اقوام پر سیاسی و معاشی بربادی
مالی و جانی تباہی ائی ہے اس میں عالمی قاتلوں اور لٹیروں (استعماری قوتوں) کا ہی بنیادی کردار ہے۔ اج بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ پہلے سے زیادہ سنگدلی اور شقی القلبی کے ساتھ جاری ہے۔
دنیا میں ہمیں اج جو عالمی اضطراب نظر اتا ہے یہ در اصل استعماری قوتوں اور ان کے استعماری گماشتوں کے وجودیاتی بحران اور داخلی اضطراب کا نتیجہ ہے کیونکہ باطن (وجود/ برتن ) میں جو کچھ ہوتا ہے وہی ظاہر میں باہر اتا ہے۔
فرنگیوں کے بارے اقبال نے یہی حقیقت بیان کی ہے۔“چہرہ روشن ،اندروں چنگیز سے تاریک تر “
بیان مسئلہ
فرد کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ “ادمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا”
فرد کا ادمی سے انسان تک کا سفر ارفع زندگی اور حصول کمال کا سفر ہے۔ حصول کمال کے لیے فرد کو ایک ضابطہء حکمت/ ضابطہ ہدایت کی ضرورت ہے۔ اس ضابطہءحکمت یا نسخہ کیمیا کے عناصر درج زیل ہیں۔۔۔ مذہب ۔۔۔۔۔نظریہ ۔۔اخلاقیات اخلاق و اقدار ادب عالیہ۔۔۔ فلسفہ ۔۔۔قانون
اج کا انسان تاریخ کے جس موڑ پر کھڑا ہے اس کے لیے حکمت و دانائی کا ایک کثیر ذخیرہ موجود ہےتاکہ وہ ارفع زندگی ،ارفع دانش، ارفع علم اور ہ سیرت حاصل کر سکے۔ ارفع علم کا یہ خزانہ ماضی کی اقوام کو میسر نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی
” ادمی سے انسان تک کا سفر” یا “وجودی تجربہ” کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔ اج کا انسان ان عظیم پیغمبروں اور صوفیا کی ارفع دانش سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔”
وضاحت:-
بیان مسئلہ میں ایک نہایت عمیق اور فکرانگیز نکتہ اٹھایا ہے، جو فرد کے وجودی سفر، انسان بننے کی تگ و دو اور ضابطہء حکمت کے ذریعے ارفع زندگی کے حصول سے متعلق ہے۔
میں بیان مسئلہ کے کلیدی نکات کی وضاحت ایک منظم، فلسفیانہ اور فکری انداز میں پیش کرتا ہوں تاکہ یہ علمی، تحقیقی اور فکری مجلس میں بھی اظہار و بیاں کے کام آ سکے۔
فرد کا اصل مسئلہ: آدمی سے انسان تک کا سفر
فرد کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ
“آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا”
— یہ ایک ایسا فکری جملہ ہے جو انسانی وجود کی گہرائیوں کو چھو لیتا ہے۔ انسان کی حیاتیاتی شناخت اگرچہ اسے “آدمی” بناتی ہے، لیکن “انسان” بننا ایک روحانی، اخلاقی اور فکری ارتقا کا تقاضا کرتا ہے۔
یہی ارتقا دراصل ارفع زندگی کا مقصد ہے، جو کمالِ انسانیت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس سفر کو طے کرنے کے لیے فرد کو ایک واضح ضابطۂ حکمت درکار ہے، جو اسے راہ دکھائے، خود شناسی کی طرف لے جائے اور معاشرے کے لیے مفید وجود بنائے۔
ضابطۂ حکمت یا نسخہ کیمیا کے عناصر
اس فکری نسخے میں درج ذیل اجزاء بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:
1. مذہب
انسان کی روحانی اور اخلاقی بنیاد؛ اس کی وحدت، مقصدِ حیات، اور مابعد الطبیعی سوالات کا جواب۔
2. نظریہ
کسی بھی قوم یا فرد کا فکری ڈھانچہ؛ جس میں دنیا کو دیکھنے کا زاویہ، سماجی انصاف، اور ترقی کے اصول شامل ہیں۔
3. اخلاقیات و اقدار
فرد اور معاشرے کے تعلق کی بنیاد؛ عدل، رحم، صداقت، شجاعت جیسی صفات کا فروغ۔
4. ادبِ عالیہ
انسانی تجربے کی جمالیاتی اور اخلاقی ترجمانی؛ جہاں زندگی کے دکھ سکھ، اقدار اور خواب محفوظ ہوتے ہیں۔
5. فلسفہ
سوال کرنے کی جرات، غور و فکر کی تہذیب، وجود، علم، حقیقت اور خیر کی گہری تفہیم۔
6. قانون
اخلاقی اصولوں کی عملی صورت؛ جس سے سماج میں نظم، عدل، اور انسانی وقار محفوظ رہتا ہے۔
عصرِ حاضر کا انسان: تاریخ کے نکتۂ آغاز پر
آج کا انسان تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں:
علم، ٹیکنالوجی، اور معلومات کا کثیر ذخیرہ موجود ہے؛
ماضی کی اقوام، انبیاء، صوفیا اور مفکرین کی دانائی تک رسائی ممکن ہے؛
مگر اس کے باوجود انسان تشکیک، انتشار، تنہائی اور بے معنویت کا شکار ہے۔
یہ تضاد اس لیے پیدا ہوا ہے کیونکہ معلومات تو میسر ہیں، مگر حکمت نہیں۔ آج کا انسان عقل رکھتا ہے، مگر دلِ حکیم نہیں؛ وہ تکنیکی ترقی یافتہ ہے، مگر اخلاقی زوال کا شکار ہے۔
ارفع زندگی کے لیے ارفع دانش کی ضرورت
ماضی کی اقوام نے، خواہ وہ انبیاء کی پیروکار ہوں یا صوفیاء کے سالک، انہوں نے انسانیت کے بلند معیار کے حصول کی جستجو کی — حالانکہ ان کے پاس آج کی طرح کے ذرائع، ڈیجیٹل علم، یا یونیورسل ڈیٹا بیس نہ تھے۔
:آج کا انسان اگر چاہے تو
ان عظیم پیغمبروں کی اخلاقی و روحانی بصیرت سے؛
صوفیا کی محبت و معرفت سے؛
فلسفیوں کی عقل و حکمت سے؛
ادب و شعراء کی جمالیات سے؛
اور قانون اور سماجی ضابطوں کی عدل پسندی سے؛
فیضیاب ہو کر انسان بننے کا وہ سفر مکمل کر سکتا ہے، جو آدمیت سے ماورا ہے — جسے اقبالؒ “مردِ مومن”، “خودی”، اور “انسانِ کامل” کے عنوانات سے بیان کرتے ہیں۔
نتیجہءبحث
آج کا سب سے بڑا بحران انسان ہونے کا بحران ہے — نہ صرف وجودی سطح پر بلکہ اخلاقی، روحانی اور فکری سطح پر بھی۔ اور اس بحران کا علاج وہی ضابطۂ حکمت ہے جس کی بنیاد مذہب، نظریہ، اخلاق، ادب، فلسفہ اور قانون میں پیوست ہے۔
فرد کو آدمی سے انسان بنانے کے لیے لازم ہے کہ وہ علم کے ساتھ حکمت، عقل کے ساتھ دل، ترقی کے ساتھ مقصد اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری کو پورا کر سکے۔
