سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کسی ایک قوم یا تہذیب کا طرہءامتیاز نہیں ہے بلکہ یہ تمام عظیم تہذیبوں اور قوموں کی مشترکہ علمی اور ثقافتی میراث ہے کہ جس نے بر اعظموں پر پھیلی ہوئی انسانی ابادیوں اور ان کے درمیان بین الاعظمی رابطوں کو سمیٹ کر ایک عالمی گاؤں کی صورت بنا دیا ہے گویا فطرت نے عالمگیر انسانی اخوت و وحدت کے قیام کے لیے کتنی مہربانی اور ہمدردی کے ساتھ انسان کی سہولت کاری کی ہے۔ لیکن تمام تر انسانی ترقیوں، سہولتوں ،اسانیوں اور مسرتوں کے باوجود بھی ہمارا عہد اضطراب کا عہد ہے،
انسان زمان و مکاں کی جس قید میں ہے یہاں بیماری، بڑھاپا اور موت سے مفر نہیں دنیاوی سفر حیات کی یہی منازل ہیں لیکن اجتماعی سطح پر تمام تر انسانی ترقی وتہذیب کی فراہم کردہ خوشیوں کے باوجود بھی ہم انسانی مسائل اور انسانی المیوں میں کثرت سے اضافہ دیکھ سکتے ہیں ۔ اج ہر صاحب فکر انسانی اقدار کو استعماری ثقافت کے دباؤ تلے مسمار ہوتے محسوس کر سکتا ہے ۔یہ دنیا امن مسرت کا گہوارہ بن سکتی ہے۔لیکن چشم فلک نے یہ منظر پہلے نہ دیکھا ہوگا کہ کس طرح مجہول دانش کا زہر عقل و دل و نگاہ میں اتارنے کے لیے منظم ثقافتی پروجیکٹ کی تشکیل و تکمیل کی جاتی ہے لوگ تہذیب فرنگ سے عشق کرتے ہیں اس کے شیدائی ہیں کوئی جوہر قابل ہو تو اس کے لیے بہشت ارضی کا وعدہ بھی ہے۔
عوامی بیداری سے کیاخاک ظلم و جہل کی تاریکیوں کا ازالہ ہوگا جبکہ بڑے بڑوں کے پاؤں پھسلتے جاتے ہیں بڑے بڑوں کی پاسائی دم توڑ تی جاتی ہے۔کروڑوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے باوجود پھر وہی زندگی ہماری ہے کہ دیار فرنگ عقل و دل و نگاہ کا قبلہ اول ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ فرنگیت ہر صبح امن کو کتنی بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ صبح عاشور میں بدل دیتی ہے ۔ شاید ثقافتی استعماریت تہذیبوں کے ٹکراؤ کی تاریخ میں پہلا منفرد تجربہ ہے گزشتہ تین صدیوں کی مشرق و مغرب کی تاریخ کی کہانی کا خلاصہ یہی ہے
