موجودہ عالمی سامراجی نظام درحقیقت عالمی صیہونی نظام ہے۔

موجودہ عالمی سامراج کے ارتقا کے چار واضح تاریخی ادوار ہیں

پہلے دور میں
مغرب میں یہودی اور عیسائی صیہونیوں کے درمیان الحاق ہوتا ہے۔ میکاولی سوچ اس ابتدائی صیہونی الحاق کی سرگرم نمائندہ اور ترجمان ہے
میں میکاولی پروجیکٹ کی بنیاد پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام عمل میں اتا ہے

دوسرے دور میں بر صغیر میں میکاولی سوچ اور چانکیہ ذہن کا الحاق ہوتا ہے یعنی برصغیر میں سرمایہ دار برہمنوں یا ہندو مہاجنوں کے ساتھ سہ فریقی صیہونی نظام کی تشکیل ہوتی ہے۔

تیسرے دور میں عالمگیر کی وفات کے بعد سہ فریقی صیہونی نظام کے ساتھ اسلامی ہند کی ملوکیت کا الحاق ہوتا ہے۔

عالمی سامراجی نظام اپنی روح اور نظریہ و عمل کے مطابق عالمگیر صیہونی میثاق ہے جس کی تشکیل کے تین بنیادی مقاصد ہیں
اول
ویلتھ اینڈ پاور کلچر کا فرو غ
اقوام عالم کے مسائل اور وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا
دوم
مذہب کی بیخ کنی
سوم
ازادی مطلق کا دفاع

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *