333
فکری مکالمہ
موضوع:
عصرِ حاضر میں ہندے فلسفہ خدا کے بارے میں دو مختلف اور متوازی رجحانات رکھتا ہے:
1— غیر شخصی خدا
(Impersonal God / برہمن) — غالب فلسفیانہ موقف
آج کے تقریباً تمام فلسفیانہ مکاتبِ فکر—خصوصاً:
ویدانت (Advaita Vedanta)
سنیاسی یوگ، راجا یوگ
نیو ویدانت (مثلاً رام کرشن، ویویکانند، اور اروِنڈو)
جدید ہندو فلسفی دانشور (رادھا کرشنن وغیرہ)
خدا کو غیر شخصی، مطلق، بے صورت، لا محدود حقیقت سمجھتے ہیں۔
یہ تصور برہمن کی صورت میں بیان ہوتا ہے:
“برہمن نہ شخص ہے، نہ قوت؛ بلکہ مطلق حقیقت ہےجو شعورِ محض
(Pure Consciousness)
کی صورت میں ہر چیز کی بنیاد
ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ جدید ہندوستانی فلسفہ عالمگیر، غیر مذہبی، سیکولر اور یوگا–صوفیانہ فکر کے قریب ہو گیا ہے۔
2— شخصی خدا (Personal God / ایشور) — مذہبی روایت میں موجود اس کے برابر ہندی روایت میں ایک دوسرا رجحان بھی موجود ہے:
بھاگوت گیان ،وشنو بھکتی، کرشن بھکتی ،شیو روایت
رامائن کی روایت ،مورتی پوجا
یہ خدا کو ایک شخصی، بااختیار، ناظر و نجات دہندہ ہستی سمجھتی ہے۔
مثلاً:
کرشن، رام، شیو، دیوی
یا ایک اعلیٰ ترین “ایشور“
یہ خدا شخصی صفات رکھتا ہے
محبت، رحمت، انصاف، تجلی، عبادت کا جواب دینا، نجات دینا۔
3— جدید زمانے میں کون سا تصور غالب ہے؟
(الف) فلسفہ، تعلیم، اعلیٰ فکری حلقے ۔۔۔غیر شخصی خدا
عصرِ حاضر کے فلسفی ،یوگ اساتذ ،نیو ایج موومنٹس اور
یونیورسٹیوں میں ہندو فلسفہ
اکثر غیر شخصی خدا (برہمن) کو بنیادی تصور مانتے ہیں۔
یہ تصور زیادہ عالمی، عقلی، صوفیانہ اور سائنس سے ہم آہنگ سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے مغرب میں بھی ویدانت اور یوگا
Impersonal Ultimate Reality
کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں۔
(ب) عوامی مذہب، بھکتی تحریک → شخصی خدا
عام عوام اور مذہبی عبادات میں
رام۔۔۔کرشن۔۔۔۔دیوی۔۔۔۔شیو
جیسے شخصی خداؤں کا تصور زیادہ مقبول ہے۔
4۔۔نتیجہءبحث:
عصر حاضر میں ہندی فلسفہ دوہرا نظام رکھتا ہے:
1— فلسفیانہ سطح پر: غیر شخصی خدا (برہمن)
2— مذہبی و عوامی سطح پر: شخصی خدا (ایشور)
اور اکثر جدید مفکرین یہ کہتے ہیں:
“برہمن حقیقتِ مطلق ہے،
اور ایشور برہمن کا شخصی یا لائق عبادت ظہور ہے۔”
یوں دونوں تصور ایک دوسرے کے متعارض نہیں،
بلکہ دو درجوں کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔