خلقِ قرآن: علمُ الحقائق کا مغالطہ اور علمُ الغایات کی بازیافت

 (111) فکری و فلسفیانہ مکالمہ
:موضوع
خلقِ قرآن: علمُ الحقائق کا مغالطہ اور علمُ الغایات کی بازیافت
یہ سوال اپنی فطرت میں محض تاریخی نہیں، بلکہ اصولی، فلسفیانہ اور نظریاتی ہے کہ کیا خلقِ قرآن کا مشہور مناقشہ دراصل اس غلط فہمی سے پیدا ہوا کہ دین کو علمُ الحقائق (Ontology) کا میدان سمجھ لیا گیا اور علمُ الغایات (Teleology) کی حکیمانہ جہت کو نظر انداز کر دیا گیا؟
جدید اسلامی اور مغربی مفکرین کا ایک بڑا طبقہ اس سوال کے جواب میں اثبات پر اصرار کرتا ہے
ہاں، یہی بنیادی غلطی تھی۔
علمُ الحقائق کی طرف انحراف: پیغمبرانہ حکمت سے فلسفیانہ نظام تک1.
جب عقلِ اسلامی نے پیغمبرانہ خطاب کو سمجھنے کی بجائے اسے ارسطوئی منطق اور یونانی وجودیات کے سخت سانچوں میں مقید کرنا شروع کیا، تو دین کی اصل معنویت پس منظر میں چلی گئی۔
معتزلہ نے—نیک نیتی کے باوجود—اس پیغمبرانہ حکمت کو ان تصورات کی کسوٹی پر پرکھا:
حقیقتِ ذات۔۔۔حقیقتِ صفات
قدم و حدود۔۔۔۔جوہر و عرض
وحدت و کثرت
یہ وہ اصطلاحات ہیں جو ارسطوئی منطق میں پیدا ہوئیں اور جن میں کائنات ایک منطقی ہندسے کی مانند تقسیم ہو جاتی ہے۔ لیکن یہی تقسیم جب وحی کی تعبیر میں داخل ہوئی تو پیغمبرانہ خطاب کی حرارت، اخلاقی معنویت اور مقصدی روح پس منظر میں چلی گئی، اور دین کا تصور میٹافزکس کی تنگ نائے میں محدود ہو کر رہ گیا۔
اس کے بعد یہ نتیجہ ناگزیر تھا کہ:
۔۔۔“خدا کا کلام موجود ہے یا نہیں؟”
۔۔۔“کلام ذات سے جدا ہے یا عین ذات؟”
۔۔۔“اگر غیر مخلوق ہے تو کتنے قدیم حقائق وجود میں آ گئے؟”
یہ تمام سوالات وجودیاتی مغالطے تھے،
دینی وظیفے کے سوالات نہیں۔
دین کا سوال یہ تھا ہی نہیں کہ “کلام کی حقیقت کیا ہے؟”
بلکہ یہ تھا کہ “کلام کا مقصد کیا ہے؟”
2. علمُ الغایات کا فراموش ہونا: مقاصدی بصیرت کی گمشدگی
پیغمبرانہ حکمت کی پوری عمارت غایت پر قائم ہے:
ہدایت، تزکیہ، اخلاق، عدل، اور انسانی معاشرے کی اصلاح۔
اگر اس مقصدی زاویے کو سامنے رکھا جاتا تو سوالات یوں بنتے:
اللہ نے انسان سے خطاب کیوں کیا؟
قرآن کا مقصد کیا ہے؟
ہدایت کا تعلق پیغام کی معنویت سے ہے یا اس کی ontological حیثیت سے؟
خدا کا “کلام” الٰہی رابطے کا وسیلہ ہے، یا کوئی مستقل ماورائی جوہر؟
اگر مقاصد سامنے رہتے تو کلام کی نوعیت پر فلسفیانہ کشمکش جنم نہ لیتی۔
چنانچہ اصل حقیقت یہی تھی:
کلام = فعلِ ہدایت،
نہ کہ جوہرِ قدیم یا حادث۔
مگر جب علمُ الغایات کا پہلو اوجھل ہو گیا تو دین ایک عملی اخلاقی نظام کے بجائے محض metaphysical ontology بن کر رہ گیا۔
3. مغالطے کا تاریخی پس منظر: یونانی فکر کا نفوذ اور عباسی عقلیت پسندی
یہ غلط فہمی دو بڑے تاریخی عوامل سے پیدا ہوئی:
الف: یونانی فلسفے کا فکری غلبہ
قدیم/حادث، جوہر/عرض، ذات/صفات—یہ تمام یونانی مفاہیم اسلامی الہیات میں داخل ہوئے۔
معتزلہ اور اشاعرہ دونوں نے انہی خانوں میں وحی کو سمجھنے کی کوشش کی۔
:نتیجہ
دین فلسفہ بن گیا، اور پیغام pure ontology میں بدل گیا۔
ب: عباسی علمی فضا اور سیاسی ضرورت
دارالحکمہ، ترجمہ تحریک، اور مامون کی سرپرستی نے عقلی الہیات کو سیاسی طاقت دے دی۔
مسئلہ آخرت و اخلاق کا نہ رہا، بلکہ “وجود” اور “صفات” کا بن گیا۔
یوں مقتدر فلسفہ نے مقاصدی دین کو فلسفیانہ میدان میں گم کر دیا۔
4. اگر علمُ الغایات مرکز میں رہتا…
اگر دین کو اس کی غایت کے زاویے سے سمجھا جاتا تو سوالات کی روح بدل جاتی:
“کلام کی حقیقت کیا ہے؟”
کے بجائے
“کلام کیوں ہے؟ مقصد کیا ہے؟”
اس ایک تبدیلی سے:
1. قرآن کا ontological مسئلہ غیر مرکزی ہو جاتا۔
2. الٰہی کلام کو “فعلِ ہدایت” سمجھا جاتا، “جوہر” نہیں۔
3. معتزلہ اور اہلِ حدیث کا پورا تنازع اپنی شدت کھو بیٹھتا۔
4. علمِ کلام ایک اخلاقی و مقاصدی دائرے میں بدل جاتا۔
کیا classical علما نے اس غلطی کو محسوس کیا؟
ہاں، مگر صدیوں بعد۔
امام غزالی
الٰہیات میں ذات کے طولانی مباحث کو “بے فائدہ مشغولیت” قرار دیتے ہیں اور مقصد کو اصل قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہ
صفاتِ الٰہی کے باب میں کہتے ہیں:
اصل مسئلہ “کیفیت” نہیں؛
اصل مقصد یہ ہے کہ خدا نے کلام ہدایت کے لیے کیا۔
ابن رشد
شریعت کی زبان کو مقصدی اور فلسفے کی زبان کو وجودی قرار دیتے ہوئے دونوں کے امتزاج میں نہایت احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔
یہ سب دراصل اسی سچائی پر مہرِ تصدیق ہیں کہ دین کا اصل جوہر عمل، اخلاق، تزکیہ اور ہدایت ہے، نہ کہ جوہری و مابعد الطبیعیاتی تفریقیں۔
6. نتیجۂ فکر: 
دین کی بازیافت، وجودیات کی گرفت سے نجات
خلقِ قرآن کا مسئلہ، اور اس کے گرد صدیوں تک چلنے والا مناقشہ، دراصل ایک بڑے مغالطے کا نتیجہ تھا:
علمُ الحقائق کی بالادستی اور علمُ الغایات کی گمشدگی۔
:دین، اپنی اصل میں
عملی بھی ہے ،اخلاقی بھی
مقصدی بھی ہے،تزکیے کا عمل بھی۔ ہدایت کا نظام بھی ہے،
اور انسانی سماج کی تعمیر بھی
لیکن جب اسے فلسفیانہ جوہروں، ازلی حقائق، منطقی تقسیمات اور وجودی مباحث میں قید کر دیا گیا تو اس کی روح دھندلا گئی۔
خلقِ قرآن کا مسئلہ اسی دھند کا نتیجہ تھا۔ دین کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یہ طے ہو کہ “کلامِ الٰہی قدیم ہے یا حادث”؛
:دین کا مقصد یہ تھا کہ
۔۔ ہدایت کیسے پہنچتی ہے؟
۔۔انسان کی اصلاح کیسے ہوتی ہے؟
۔۔۔عدل اور تزکیہ کیسے قائم ہوتے ہیں؟
یہی دین کا علمُ الغایات ہے
اور یہی وہ روشنی ہے جس کے بغیر دین کے مباحث سوفسطائیت اور خناسیت میں بدل جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *