فکری مکالمہ
نقطہءنظر:
میرے خیال میں معتزلہ کے تہذیبی منصوبے یا تہذیبی خواب کو ” عقلی اسلامی منصوبہ” قرار دینا مبالغہ ارائی ہے۔
اخر کار اس کا وہی انجام ہونا تھا جو ہو کر رہا بے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بے لگام عقلیات اور بے مقام استفہامیہ یا استفساریہ کسی بھی مذہبی تہذیب کے لیے کبھی بھی سود مند ثابت نہیں ہوا۔
میری نظر میں تہذیب ایک اجتماعی عمل حیات کا نام ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ کسی مذہبی تہذیب کو تحقیق، تشکیک ،تنقید اور تفکر کی روش ترک کر دینی چاہیے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اجتماعی عمل حیات ،تہذیبی شعور یا کسی قوم کے تخلیقی عمل کی صحت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ
” نظری مسائل کو بہت گہرا یا بہت وسیع نہ بڑھایا جائے بلکہ زیادہ توجہ پائیدار انسانی ترقی کے مسائل/ثلاثی وحدت پر دی جائے۔یعنی
1۔۔۔ معاشی خود مختاری
2۔۔۔ سیاسی استحکام
3۔۔۔ عسکری دفاع
عوام کو نظری مسائل سے ہمیشہ دور رکھنا چاہیے۔ نظری مسائل بہت ہی محدود، مختصر ماہرین فلسفہ ٹک محدود ہونے چاہیے ۔
لیکن جب ارباب علم و فن ایسے سوالات اٹھائیں جس سے عوام میں ریاست و حکومت کے خلاف باغیانہ جذبات کو بھڑکایا جائے یا حکومت و ریاست کو ظلم و استحصال کا جواز دیا جائے دونوں صورتوں میں ارباب علم و فن کی فکری کاوش قابل مذمت ہوگی۔
مو ضوع:
معتزلہ کا تہذیبی خواب: ایک تنقیدی و فلسفیانہ جائزہ
تہذیب کا مسئلہ کبھی محض عقلی یا نظری بحث کا نام نہیں رہا۔ انسانی معاشروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ تہذیب دراصل اجتماعی عملِ حیات کا دوسرا نام ہے—ایک ایسا زندہ اور متحرک عمل، جو معاشی قوت، سیاسی استحکام اور عسکری تحفظ کی جڑوں میں پروان چڑھتا ہے۔ نظری مباحث اور فلسفیانہ سوالات اگرچہ ذہنی روشنی فراہم کرتے ہیں، مگر جب وہ اپنے حدود سے بڑھ کر اجتماعی قوتوں پر اثر انداز ہونے لگیں تو تہذیب کے لئے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
اسی پس منظر میں معتزلہ کے نام نہاد ’’عقلی اسلامی تہذیبی منصوبے‘‘ کا جائزہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اسے اسلامی تہذیب کا عقلی متبادل یا مستقبل کا خواب کہنا سراسر مبالغہ آرائی ہے۔ اس منصوبے کا انجام وہی ہونا تھا جو تاریخ میں ہوا—ایک فکری اضطراب، ایک سیاسی جبر، اور ایک تہذیبی شکست۔
تہذیب: نظریہ نہیں، اجتماعی عمل
میری نظر میں تہذیب کا سرچشمہ نظریہ نہیں بلکہ عمل ہے۔
رومی تہذیب قانون اور عسکری طاقت پر قائم تھی،
چینی تہذیب نظم و ضبط اور اجتماعی محنت پر،
اور یورپی جدید تہذیب سائنسی صنعت اور معاشی قوت پر۔
اسلامی تہذیب کی بنیاد بھی تجارت، معاشرتی اخلاق، تنظیمِ ریاست، علمی روایت اور عسکری تحفظ پر تھی—
نہ کہ خلقِ قرآن، جوہر و عرض، یا عقل و نقل کے لامتناہی مناظروں پر۔
ارسطو نے کہا تھا:
“Excess of analysis leads to paralysis.”
انتہائی تجزیاتی ذہن اکثر عمل کی قوت کھو دیتا ہے۔
معتزلہ اسی ’’تحلیل کے جال‘‘ میں گرفتار تھے۔ انہوں نے عقل کو مقصد بنا دیا، ذریعہ نہیں رکھا؛ اور تہذیب کو فکر کے میز پر رکھ دیا، میدانِ عمل میں نہیں۔
معتزلہ کا عقلی منصوبہ: فکری بلندی یا عملی بے مائیگی؟
معتزلہ نے ایک ایسی “عقلی اسلامی تہذیب” کا تصور پیش کیا جو عملی اور عمرانی بنیادوں سے خالی تھی۔
یہ منصوبہ:
اکیڈمک تھا، تہذیبی نہیں
کلامی تھا، اجتماعی نہیں
فکری تھا، عمرانی نہیں
انفرادی تھا، اجتماعی حرکت کے بغیر
تہذیبیں منطق اور فلسفے کی باریکیوں سے نہیں بنتیں؛
وہ معاشی استحکام، سیاسی نظم اور دفاعی قوت کے بغیر کبھی کھڑی نہیں ہو سکتیں۔
ابن خلدون نے کہا تھا:
“عمران کا دارومدار قوت، نظم اور معیشت پر ہے، نہ کہ انتزاعی مباحث پر۔”
معتزلہ ابن خلدون کی اس بصیرت سے صدیوں پہلے بے خبر تھے۔
بے مقام عقلیات کا تاریخی بوجھ
تاریخ بار بار یہی بتاتی ہے کہ بے وقت اور بے محل عقلیات نے تہذیبوں کو کمزور کیا، مضبوط نہیں۔
یونان اعلیٰ فلسفہ رکھتا تھا، مگر عملی تنظیم کے فقدان نے ریاست کو منتشر کر دیا۔
مسیحیت میں قرونِ وسطیٰ کے تثلیثی اور کلامی مناظروں نے علمی جمود پیدا کیا۔
مسلمانوں میں خلقِ قرآن کی محنہ نے ریاست اور سماج کو غیر ضروری ٹکراؤ میں دھکیل دیا۔
جب کسی قوم کی قوتِ عمل کی جگہ حد سے بڑھی ہوئی ’’تعقلات‘‘ لے لیں تو نتیجہ بکھراؤ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
مولانا روم نے اسی لیے کہا تھا:
یعنی عقل جب دل کی رہنمائی کرے تو نور ہے، اور جب بے محل ہو جائے تو فتنہ بن جاتی ہے۔
فلسفے کی حدود اور قوم کا
عمل
یہ کہنا کہ کسی مذہبی تہذیب کو تحقیق، تنقید یا تفکر چھوڑ دینا چاہیے، درست نہیں۔
مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ:
نظری مباحث مختصر، منضبط اور محدود رہیں
نظریات کو ریاستی سطح پر نافذ کرنے کا جذبہ نہ ہو
عوام کو گہرے انتزاعی مباحث سے دور رکھا جائے
فلسفیانہ سوالات ’’اہلِ علم‘‘ کے دائرے تک محدود رہیں کیونکہ جب نظری مسائل عوام تک پہنچتے ہیں تو وہ فکری ارتقاء نہیں، سیاسی انتشار کو جنم دیتے ہیں۔اسی مقام پر فکری رہنماؤں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ وہ سوال بھی سوچ سمجھ کر اٹھائیں اور جواب بھی ذمہ داری کے ساتھ دیں۔
وہ سوال نہ اٹھائیں جو:
۔۔۔ریاست کو کمزور کرے
۔۔۔عوام میں باغیانہ جذبات بھڑکائے
۔۔۔یا ظلم و جبر کو نظریاتی جواز فراہم کرے
۔۔۔اربابِ علم کا کام روشنی ہے، آگ لگانا نہیں۔
معتزلہ کی غلطی:
نظریے کو ریاست بنانا
معتزلہ کی اصل لغزش یہ تھی کہ انہوں نے کلامی مسئلے کو ریاستی قانون بنا دیا۔ عقلی انتزاع کو شرعی و سیاسی اصول بنا دیا۔ عوام کو نظریاتی جنگ میں جھونکا۔سیاست کو فکری مناظرے میں تبدیل کر دیا
اور ریاستی طاقت کو اپنے نظریے کے فروغ کے لیے استعمال کیا
اس تمام فکری کاوش کا حاصل کیا ہے؟
۔۔۔نہ معاش مضبوط ہوا،
۔۔۔نہ ریاست مستحکم رہی،
۔۔۔ نہ ہی عقل پسندی کا کوئی پائیدار سلسلہ قائم ہو سکا۔
۔۔۔۔۔تاریخ نے انہیں تہذیبی عمل سے باہر کر دیا۔
تہذیب کی ثلاثی وحدت: ترقی کا حقیقی راستہ
قوموں کی بقا اور ترقی نظریاتی جنگ سے نہیں—
بلکہ تین لازمی ستونوں سے ہوتی ہے:
1. معاشی خودمختاری
2. سیاسی استحکام
3. مضبوط عسکری دفاع
تہذیب کا اصل چہرہ ان ہی اصولوں سے بنتا ہے۔
اسی لیے پیغمبرانہ تہذیب عملی تھی، مجرد نہیں؛
متوازن تھی، متعصبانہ نہیں؛
اور حکمت پر قائم تھی، مجرد تجسس پر نہیں۔
نتائج فکر:
انسانی تہذیب کی تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ:
تہذیبیں نظریے سے زیادہ عمل سے بنتی ہیں
انتزاعی عقلیات اور بے محل نظریاتی سوالات قوموں کو کمزور کرتے ہیں
اہلِ دانش کا فرض ہے کہ وہ فکر دیں، انتشار نہیں
اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قوم کو نظریاتی جنگوں سے بچاتے ہوئے
معاشی، سیاسی اور دفاعی استحکام کی طرف رہنمائی کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔معتزلہ کی ناکامی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ
جب فلسفہ اپنی حد سے نکلے تو تہذیب کو کھوکھلا کر دیتا ہے،
اور جب قوم عمل چھوڑ کر نظریات میں الجھ جائے
تو اس کا انجام انتشار اور کمزوری کے سوا کچھ نہیں ۔