خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے– گزر گیا ہے رہرو تمنا کدھر سے آگے 

خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے
گزر گیا ہے رہرو تمنا کدھر سے آگے 
محترم جلیل عالی کا
یہ شعر ایک بسیط فکری اور روحانی بیانیہ ہے جس میں مشرق و مغرب کی فکری تاریخ جمالیاتی فلسفہ اور روحانی شعور کے درمیان نظریاتی
کشمکش اور وجودی فرق کو نمایاں کیا گیا ہے۔
 اس مضمون کی ایک جہت اقبال  اپنے اس شعر میں بیان  کی ہے
بو علی اندر غبارے ناقہ گم 
دست رومی پردہ محمل گرفت
خجل خیالوں کی خواری یہ ہے کہ “
خود اک لفظ لکھیں،خود مٹانے لگ جائیں” فلسفے کا انہدام دیکھئے،ہیگل ،مارکس نیطشے کے تصورات کی تاریخی ناکامی،جدید طبیعیات کوانٹم کائنات تصورات میں تضادات روحانی خلا بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہےکہ مادہ پرستی نے وجودی تشنگی پیدا کی ہے۔
نیطشے، ہیگل ،مارکس یہ سب عظیم مغربی مفکرین ہیں مگر ان کی فکر مادی کائنات تک محدود ہے یا انسان خدا اور کائنات  کھے درمیان روابط کو ایک خاص نظریاتی عدسے سے دیکھنے کی کوشش ہے۔
ان کا انجام خود ان کے نظریات کے بکھرنے میں ہوا ۔یہی وہ خچل خیال ہے جو خود اپنی بنیادیں کھوکھلی کر بیٹھے
مغربی تھیوریز نے خجل خیالوں کی بھیڑ کو خوب بڑھاوا دیا۔دانش فرنگ نے اپنی کمند شوق میں عوام کیا مذہبی و سیاسی اشرافیہ کا بھی خوب شکار کیا۔
سب نے  مغربی تصورات کو  عقل و دل و نگاہ کا امام بنا لیا
یہ شعر ایک لطیف مگر گہرا نکتہ اٹھاتا ہے کہ جب انسان کی زندہ تمنا، اس کا اشتیاق، اس کا باطنی سفر قلب کی گرمی اور روح کی تڑپ لئے کسی ایسی منزل  کی طرف گزر جائے جسے عام شعور یا سطحی دانش سمجھنے سے قاصر ہو تو باقی خام خیالات ،فلسفے ،نظریے حیرت و خجالت میں گم ہو جاتے ہیں۔ یہاں خجل خیالات وہ تمام نظریات اور افکار ہیں جو روح کی گہرائی کو چھونے سے قاصر ہیں رہے۔
رہرو تمنا کیسے کام کرتا ہے؟ خجل خیالوں کو کیسے ورطہءحیرت میں ڈالتا ہے؟ اس شعر کی حقیقی روح  درج ذیل اقتباس مزید واضح کر دے گا۔
“ڈاکٹر امید کر لکھتے ہیں پاکستان کے فلسفیانہ جواز کی دریافت میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی کہ مسلم قائدین مسلمانوں کے متعلق اقلیت اور قومیت کی حیثیت کے طور پر باتیں کرنے کے عادی ہو گئے تھے۔ اس اصطلاح نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا اور وہ ایک اندھی گلی پر پہنچ کر رہ گئے۔ جب انہوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ وہ ایک اقلیتی قوم ہے تو انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کے لیے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ تحفظات کا مطالبہ کریں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور تقریبا نصف صدی تک عملا اسی پر اکتفا کیے رہے۔”
” اس تحفظات اور زیادہ نمائندگی کے کوچہء سربستہ سے نکلنے کی راہ ایک شاعر ڈاکٹر محمد اقبال کے رومانی تخیل نے گویا بارود سے اڑا کر بنا دی۔”( 1)
متحدہ ہندوستانی قومیت میں مسلم قومیت و ثقافت کو  ضم کرنے والی  خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت  سے تک رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔! دیکھا رہرو تمنا ایسے کام کرتا ہے!
بحوالہ
 “برصغیر میں اسلامی کلچر”
مصنف  ۔ ۔پروفیسر عزیز احمد (مرحوم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *