جامعات میں علم و تحقیق پر ویلتھ اینڈ پاور کلچر کے اثرات

(بسلسلہ طبقاتی کلچر کا نظریہ)
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
vs
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر
تحریر: محمد اکرم الوری
موضوع:
جامعات میں علم و تحقیق پر ویلتھ اینڈ پاور کلچر کے اثرات
کلیدی نکات
۔۔۔۔۔اج  کل اساتذہ ریسرچ پیپرز کی تعداد بڑھانے میں کھو گئے ہیں جس سے نظریہ و عمل میں بہت دوری پیدا ہو گئی ہے
۔۔۔۔۔پی ایچ ڈی اسکالرز /ریسرچ پیپرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ان کا عملی اثر یا تعلق خصوصا سوشل سائٹیشنز  جیسے میدانوں سے کم ہو گیا ہے
۔۔۔۔۔جس کے نتیجے میں نہ صرف صحافت و سیاست بلکہ اکیڈیمیا کے دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
آئیے مزکورہ کلیدی نکات اور اس صورتِ حال کی وجوہات کا تجزیہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔ریسرچ پیپرز کی تعداد بڑھانے کی وجوہات
 “Publish or Perish Culture”
موجودہ اکیڈمک سسٹم میں مقالوں کی تعداد کو معیارِ قابلیت سمجھا جاتا ہے۔
اگر آپ نے زیادہ مقالے شائع کیے ہیں، تو آپ کے لیے:
1…..ترقی (promotion)
2….اسکالرشپ
3….فنڈنگ
4….بیرونِ ملک مواقع
5….کانفرنسوں میں دعوت
6…یونیورسٹی میں مستقل تقرری
زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔
 یہ نظام معیار کے بجائے مقدار پر زور دیتا ہے۔
2. مالی فوائد (Incentives)
بعض اوقات اسکالرز کو فی پیپر یا فی ریسرچ گرانٹ پر مالیاتی سہولت دی جاتی ہے۔
بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والے مقالوں پر:
…اضافی تنخواہ
…بونس
یا ریسرچ گرانٹ حاصل ہوتی ہے۔
 اس باعث، تحقیق کو مارکیٹ پراڈکٹ کی طرح برتا جانے لگا ہے۔
3. درجہ بندی (Rankings) کا دباؤ
یونیورسٹیاں بین الاقوامی رینکنگز میں آگے بڑھنے کے لیے اساتذہ پر تحقیقاتی کام بڑھانے کا دباؤ ڈالتی ہیں۔
اس رینکنگ میں:
“پبلیکیشن کی تعداد”
“سائٹیشنز”
“ایچ-انڈیکس”
وغیرہ کو معیار بنایا جاتا ہے۔ اس دباؤ نے تحقیق کو خودنمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے، نہ کہ سماجی خدمت کا۔
4.تعلیمی اداروں میں عملی شعبوں سے دوری
صحافت، سیاست، ادب یا دیگر عملی شعبے عموماً تحقیقی جامعات کی ترجیح نہیں بن پاتے۔
اساتذہ خود بھی ماضی کے صحافیوں، سیاسی کارکنوں، یا میدانِ عمل کے لوگوں کی طرح فیلڈ ورک نہیں کرتے.
 تحقیق کاغذی بن کر رہ گئی ہے، جس کا زمین سے رابطہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
5. “پیپر مِلز” اور جعلی تحقیق کا رجحان
کچھ اسکالرز صرف تعداد بڑھانے کے لیے کم معیار کے جرائد میں تحقیقی مقالے شائع کرتے ہیں۔
بعض اوقات “ریسرچ پیپر ملز” وجود میں آ جاتی ہیں، جہاں پیسے دے کر نام چھاپے جاتے ہیں
 یہ عمل تحقیق کے مقصد اور وقار دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
6. تحقیق برائے تحقیق، نہ کہ حل برائے مسائل
تحقیق اکثر کسی حقیقی معاشرتی یا صحافتی مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہیں کی جاتی، بلکہ صرف “شائع” ہونے کے لیے کی جاتی ہے۔
اس کا نتیجہ: عملی میدان سے تحقیق کا رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔
پی ایچ ڈی یا اکیڈمک تحقیق کا مقصد معاشرے کی رہنمائی، تنقید، اور بہتری ہونا چاہیے — لیکن موجودہ نظام میں اس کی جگہ مقالوں کی دوڑ، مالی فوائد، اور رینکنگ کی ہوس نے لے لی ہے۔
سوال: کیا یہ صرف مالی مفاد کی بات ہے؟
نہیں — یہ مسئلہ صرف مالی مفادات تک محدود نہیں:
….یہ ادارہ جاتی ڈھانچے (structural incentives) کا مسئلہ ہے۔
…یہ سماجی وقعت کی تبدیلی (reputation economy) کا مسئلہ ہے۔
… یہ تعلیمی نظام کی روح سے دوری کا مسئلہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *