(بسلسلہ طبقاتی کلچر کا نظریہ )
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
VS
مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر
موضوع:-
طبقاتی مفاد کے تحفظ اور بقا کے لئے سرگرم قوتوں کا کردا
(عیسوی شریعت کو پہلے یونانی مسیحیت میں بدلا گیا اور پھر کلیسا کی مذہبی اجارہ داری اور رومیوں کے سیاسی مقاصد کے لیے ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا گیا)
عیسائیت کے خالص توحیدی عقیدے کو تثلیث میں تبدیل کرنے کے عمل میں افلاطون کے فلسفے اور سینٹ پال سمیت یہودی و رومی مفکرین کے کردار کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ اس تبدیلی کے محرکات، اثرات اور تاریخی سیاق کا تجزیہ درج ذیل نکات میں کیا جا سکتا ہے:
ابتدائی عیسائیت: توحید کی اساس
ابتدائی عیسائی جماعت حضرت عیسیٰ کی تعلیمات پر کاربند تھی، جو خدا کی وحدانیت اور شریعتِ موسوی کی تکمیل پر مرکوز تھی۔ انجیل متی، مرقس اور لوقا میں حضرت عیسیٰ کو خدا کے بندے اور نبی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اصطلاحات جیسے “خدا کا بیٹا” اس دور میں مجازی مفہوم رکھتی تھیں، نہ کہ حقیقی الوہیت کا اظہار۔ قرآن بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی دعوت توحید اور سابقہ انبیاء کی تصدیق پر مبنی تھی۔
تثلیث کی تشکیل میں کلیدی کردار
پہلا کردار سینٹ پال کا ہے۔ وہ ابتدا میں یہودیت کا سخت پیروکار تھا، لیکن بعد میں مسیحی جماعت میں شامل ہو کر اس نے عیسائیت کو یہودیت سے جدا کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس نے شریعت کے احکام کو غیر ضروری قرار دیا، ختنہ اور کھانے پینے کے شرعی قوانین کو منسوخ کیا، اور کفارہ کے نظریے کو مرکزی عقیدہ بنایا۔ اس کا مقصد غیر یہودی اقوام کو عیسائیت میں شامل کرنا تھا۔ اس مقصد کے تحت اس نے یونانی فلسفے کے تصورات کو عیسائیت میں ضم کیا، جن میں “لوگوس” (کلمہ) کا تصور نمایاں ہے۔
دوسرا عنصر یونانی فلسفہ ہے، خاص طور پر افلاطون کا تصور “مثالی عالم”، جس میں تین اصولوں یعنی ایک، عقل، اور روح کا ذکر ہے۔ یہی فلسفیانہ تصور بعد میں تثلیث کی بنیاد بن گیا۔ فلو یہودی جیسے مفکرین نے لوگوس کو خدا کا مظہر یا صفت بنا کر عیسیٰ سے منسلک کیا۔ نو افلاطونیت، جو سکندریہ میں پروان چڑھی، روح القدس کو ایک الہی جزو کے طور پر پیش کرتی ہے، جو فلسفہ اور تصوف کا امتزاج تھا۔
تیسرا اہم کردار رومی سیاسی مفادات کا تھا۔ قسطنطین نے نقیہ کونسل کے ذریعے تثلیث کو سرکاری عقیدہ تسلیم کرایا، تاکہ رومی سلطنت کو مذہبی طور پر متحد کیا جا سکے۔ رومی عوام میں عیسائیت کی مقبولیت بڑھانے کے لیے مشرکانہ رسومات جیسے ساتورنالیا کو کرسمس میں تبدیل کیا گیا، اور دیوتا میترا کی علامات کو مسیحی رسوم میں شامل کیا گیا۔
حواریوں کے مشن کو نقصان
تثلیث کے عقیدے کی ترویج کے بعد ابتدائی توحیدی عیسائی گروہوں، جیسے ابیونیٹس، کو بدعتی قرار دے کر ان پر ظلم کیا گیا۔ حواریوں کا پیغام سادہ اور عقلی تھا، لیکن کلیسا نے تثلیث کو ایک اسرار قرار دے کر اس کی عقلی وضاحت ممنوع کر دی۔ مذہب کو طاقت اور دولت کا ذریعہ بنا دیا گیا، اور عوام سے کہا گیا کہ بغیر سمجھے بس ایمان لاؤ۔ بعد ازاں کلیسا نے معافی ناموں کی تجارت شروع کی، جس میں گناہوں کی معافی کو پیسے کے بدلے بیچا جاتا تھا۔ یہ سب حضرت عیسیٰ اور ان کے شاگردوں کے پاکیزہ پیغام کے برعکس تھا۔
کیا یہ ایک شعوری سازش تھی؟
پولس نے خود کہا کہ مسیح شریعت کا خاتمہ ہے۔ یہ بات حواری یعقوب کی تعلیمات سے متصادم تھی، جو شریعت پر عمل کو ضروری قرار دیتے تھے۔ یوحنا کی انجیل میں “کلمہ” کے تصور کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے وہ خدا ہی ہے، جو افلاطونی مثالیت سے متاثر لگتا ہے۔ قسطنطین نے مذہب کو سیاسی وحدت کا ذریعہ بنایا، جس سے مذہب ریاستی آلہ کار بن گیا۔
قرآن اس پورے عمل کو تحریف قرار دیتا ہے، اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ کتاب الہی کو بدل کر خدا کی طرف منسوب کرنا سنگین جرم ہے۔
توحید کی بحالی کی کوششیں اور رکاوٹیں
سولہویں صدی میں سوسیانزم نے توحید کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ خدا نہیں بلکہ ایک عظیم انسان تھے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں بھی برطانیہ اور امریکہ میں یونٹیرین گروہوں نے اسی موقف کو اپنایا، مگر انہیں مین سٹریم کلیسا نے غیر مسیحی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جرمن محقق آدولف فان ہارناک نے بھی اپنی کتاب میں یہی ثابت کیا کہ عیسائیت کے اصل عقائد کو پولس اور یونانی فلسفے نے تبدیل کیا۔
:- نتائج بحث
۔۔۔۔تثلیث کی تشکیل ایک منظم فکری، مذہبی اور سیاسی مداخلت کا نتیجہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔پولس نے مذہبی انحراف کیا، یونانی فلسفے نے عقائد کو مسخ کیا، اور رومی ریاست نے مذہب کو اپنے مفاد میں استعمال کیا۔
۔۔۔۔اس عمل سے حواریوں کا توحیدی مشن دھوکہ دہی اور اقتدار کی سیاست کی نذر ہو گیا، جس پر قرآن نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
۔۔۔۔۔آج بھی دنیا میں کچھ توحیدی عیسائی موجود ہیں، جو اس تاریخی غلطی کی اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کلیسا کی طاقتور سیاسی اور مذہبی ساخت ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
