ملوکیت اور مابعد ملوکیت

(بسلسلہ طبقاتی کلچرکا نظریہ)
ملوکیت اور مابعد ملوکیت
جب میں یہ کہتا ہوں کہ ملوکیت اور ما بعد ملوکیت مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے تو میں نے یہ بات جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے سیاق و سباق میں ہی کہی ہے۔ اس حوالے سے دو نکات کا سمجھنا ضروری ہے۔
:-پہلا نکتہ
ملوکیت مسلمانوں کے سیاسی معاشی اور دفاعی استحکام اور عروج کا دور رہا ہے مگر پھر کیا ہوا کہ مغربی جدیدیت نے کس طرح عظیم مغلیہ سلطنت اور خلافت عثمانیہ میں اس ملوکیت کے پرخچے اڑا ڈالے۔
:-دوسرا نکتہ
جب ہم مغربی جدیدیت کی بات کرتے ہیں تو ہم دراصل اس منظم مکاری سے دانستہ یا غیر دانستہ صرف نظر کرتے ہیں جو جدیدیت اور ما بعد جدیدیت میں اج بھی کلیدی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔ دوستی کا دکھاوا ۔ اصل میں غلامی ہے
ما بعد ملوکیت کا دور دراصل  استعماری غلامی کا دور ہے۔
پاک امریکہ دوستی یا ابراہم Accord کے خوبصورت اور دلکش بیانیے سے جس کا اظہار کیا جاتا ہے یعنی معاشی غلامی اور سیاسی محکومیت کی پردہ پوشی کے لیے دوستی کا دکھاوا کیا جاتا ہے۔
ملوکیت مسلم عروج کا دور تھی، لیکن مغربی جدیدیت نے اسے ایک منظم مکاری سے تباہ کیا — یہ نکتہ مسلم تاریخ کے ایک اہم مگر اکثر نظر انداز پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اس تجزیے کو درج ذیل نکات کی روشنی میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے:
۔ ملوکیت کا عروج: سیاسی و معاشی استحکام
عثمانی اور مغلیہ سلطنتیں اپنی مضبوط ملوکیت اور مرکزیت کی وجہ سے کئی صدیوں تک نہ صرف قائم رہیں بلکہ دنیا کے طاقتور ترین سیاسی و معاشی نظاموں میں شامل رہیں۔ عثمانیوں نے تین صدیوں تک یورپ کو سیاسی اور فوجی لحاظ سے دباؤ میں رکھا، جبکہ مغلیہ سلطنت 1707ء تک دنیا کی کل دولت کا تقریباً 25 فیصد پیدا کر رہی تھی۔
اس استحکام کی بنیاد وہ نظام تھے جنہوں نے مقامی وسائل کو منظم طریقے سے مرکزی طاقت کے تحت استعمال کیا۔
…. عثمانیوں کا تیمار سسٹم اور مغلوں کی ماندل انتظامیہ دونوں ایسے نظام تھے جو مقامی سطح پر شرکت کے ساتھ مرکزی نظم و ضبط قائم رکھتے تھے۔
۔ مغربی جدیدیت: استعماری مکاری کا آلہ
مغرب نے “تجارت”، “ترقی” اور “جدیدیت” جیسے مثبت اصطلاحات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
…ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغلیہ سلطنت کے تحت بنگال کی معیشت پر قبضہ حاصل کیا، اور 1757ء کی جنگِ پلاسی اس قبضے کی بنیاد بنی۔
….عثمانی سلطنت کو 19ویں صدی میں قرضوں کے جال میں جکڑ کر ان کے مالیاتی نظام کو یورپی بینکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ 1838ء کا معاہدۂ بلطہ لیمان عثمانیوں کی صنعتی تباہی کا آغاز تھا، جس کے تحت مغربی مصنوعات پر محض 5 فیصد درآمدی ڈیوٹی لاگو کی گئی، جبکہ مقامی صنعتیں تحفظ سے محروم رہیں۔
فوجی لحاظ سے بھی مغربی طاقتوں نے جدید اسلحہ فراہم کیا مگر اس کے ساتھ سیاسی شرائط عائد کیں۔
…عثمانی سلطنت کی تنظِیمات (1839) جیسی اصلاحات بظاہر “جدیدیت” کے نام پر تھیں، مگر اصل میں سلطنت کے داخلی معاملات میں مغرب کی مداخلت کو رسمی بنا دیا گیا۔
مغلیہ سلطنت میں انگریزوں نے جدید اسلحہ اپنے اتحادیوں (جیسے سکھ اور مرہٹے) کو دے کر مرکز کو مزید کمزور کر دیا۔
۔ مابعد ملوکیت: “دوستی” کے پردے میں استعمار
استعماری منصوبہ محض عسکری یا معاشی قبضے تک محدود نہ تھا، بلکہ آزادی کے بعد بھی مغرب نے مسلم دنیا پر اپنی گرفت “دوستی” اور “مدد” کے نام پر جاری رکھی۔
…..پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی مثال اس کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے معاشی امداد کے نام پر اربوں ڈالر فراہم کیے، مگر اس کے ساتھ ایسے مطالبات منسلک کیے جو ملکی خودمختاری کے منافی تھے، مثلاً
…فوجی اڈوں کی فراہمی،
….مخصوص گروہوں کے خلاف کارروائی،
….خارجہ پالیسی میں امریکہ نوازی۔
ابراہم ایکارڈ جیسے معاہدے جنہیں بظاہر امن کے فروغ کے طور پر پیش کیا گیا، ان کے پیچھے مسلم دنیا کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مجبور کرنے کا ایجنڈا چھپا ہوا تھا۔
ان کے ساتھ ساتھ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں نے معاشی پالیسیاں مسلط کر کے مسلم ممالک کو سبسڈی ختم کرنے، کرنسی کی قدر گرانے، اور معیشت کو “فری مارکیٹ” کے تحت چلانے پر مجبور کیا۔
۔ جدیدیت کی مکاری: ثقافتی استعمار
جدیدیت کے نام پر مغرب نے مسلم معاشروں کو ڈی-ایڈولائز کرنے کا منصوبہ بنایا — یعنی انہیں فکری، تہذیبی، اور نفسیاتی طور پر بالغ ہونے سے روکا گیا۔
…..ترک معاشرے میں اتاترک کے تعلیمی اصلاحات نے عربی رسم الخط اور مذہبی علوم کو پسِ پشت ڈال دیا، جس سے ایک پوری نسل اپنی تاریخ سے بیگانہ ہو گئی۔
….ثقافتی سطح پر مغربی اقدار، لباس، زبان، اور میڈیا کو “ترقی یافتہ” ظاہر کر کے مسلمانوں کو اپنی شناخت سے شرمندہ کیا گیا۔
….عربی، فارسی، اردو اور ترکی جیسے زبانوں کی جگہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو “اعلیٰ طبقے” کی پہچان بنا دیا گیا۔
۔ حاصل گفتگو: المیے کی جڑ
مسلم ملوکیت کی کمزوری اس کے اندرونی جمود، بالخصوص فوجی و فکری جدیدیت سے دوری تھی۔ مگر اصل تباہی اس وقت شروع ہوئی جب مغرب نے ترقی، جدیدیت اور تعاون کے نام پر مسلم دنیا کو ایک منظم منصوبے کے تحت فوجی، معاشی اور ثقافتی غلامی میں مبتلا کر دیا۔
پہلا مرحلہ تھا فوجی شکست، جیسے پلاسی اور جنگِ عظیم کے نتیجے میں مسلم سلطنتوں کا زوال۔
دوسرا مرحلہ تھا معاشی غلامی، قرضوں اور معاہدات کے ذریعے خودمختاری کا خاتمہ۔
تیسرا مرحلہ تھا ثقافتی غلامی، جس میں تعلیم، میڈیا، اور ذہن سازی کے نظام کے ذریعے مسلم شناخت کو مسخ کر دیا گیا۔
تجاویز:-
۔۔۔۔اس صورت حال کا حل ماضی کی ملوکیت کی بحالی میں نہیں بلکہ ایک نئے اجتماعی نظام کی تشکیل میں ہے۔ ایسا نظام جو قرآن کے تصورِ استخلاف پر مبنی ہو، جس میں سیاسی خود مختاری، معاشی خود کفالت، اور ثقافتی خودی کا شعور موجود ہو۔
۔۔۔۔۔تاریخ کو جذباتی نہیں بلکہ بصیرت کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ملوکیت کے عروج و زوال دونوں سے سیکھنا ہو گا۔
۔۔۔۔۔ یہ بھی ضروری ہے کہ “جدیدیت = ترقی” جیسے مغربی بیانیے کو چیلنج کیا جائے۔
۔۔۔۔۔ مسلم دنیا کو درپیش استعماری خطرات کو عوامی سطح پر بے نقاب کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔فکر اقبال سے اس خودی کا شعور حاصل کریں ہے جو استعمار کے خلاف نہ صرف مزاحمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے، بلکہ ایک نئی تہذیب کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *