تحقیق مسائل کی جڑوں تک پہنچنے کا عمل ہے
تحقیق کسی مسئلے کا وہ باوثوق علم جس میں کسی صاحب فکر انسان کے لیے شک کی کوئی گنجائش نہ پائی جائے۔
۔تحقیق میں صرف منتہای مسائل کا حل ہی تلاش نہیں کیا جاتا ممکن ہے ایک سوال بادی النظر میں مشکل نہ ہو لیکن ایک محقق کی نظر میں یہ دنیا کا مشکل ترین سوال ہو سکتا ہے
ایک محقق ہی اس سادہ سوال کے کسی قابل اعتماد جواب کی تلاش میں انے والی مشکلات اور زحمتوں سے باخبر ہوتا ہے
ذوق تحقیق پختہ ہو تو حکیمانہ نظر پیدا ہو ہی جاتی ہے۔
۔ہر صاحب فکر صاحب نظر نہیں ہوتا ۔ تحقیق وہی معتبر اور قابل اعتماد ہےجو ہمیں صاحب فکر اور صاحب نظر بناتی ہے
تحقیق کے میدان میں کسی بے پروائی اور محکم ادعا بلا دلائل و شواہد دعاوی کو یکسر پذیرائی نہیں ملتی۔
تحقیق میں ان باتوں کی چھان بین بھی کی جاتی ہے جو کسی مسئلے کو معمہ بنا دیتی ہیں۔
تحقیق میں تمام محکمات اور متشابہات کو الگ الگ کر دیا جاتا ہے۔تحقیق ان ابہامات اور اشتباہات کی ہوتی ہےجو تصورات میں پنہاں ہوتے ہیں۔
تحقیق نام ہے حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھانے کا۔
