نقطہءنظر

فکری مکالمہ

نقطہءنظر

میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مارکسزم کے بعد سے دنیا میں جب بھی اور جہاں بھی غریبوں، مظلوموں ،کسانوں اور محروموں کے حقوق کی اواز اٹھائی جاتی ہے تو اسے فوری طور پر مارکسزم سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک تاریخی حقیقت جو نظر انداز ہوتی دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مجبوروں اور محروموں کی یہ جدوجہد مارکسزم سے صدیوں پہلے سے انبیاء اور ان کے پیروکاروں کی مرکزی کوششوں میں شامل رہی ہے ۔اس کے باوجود مارکسزم کو اکثر ایک سیکولر نظریے کے طور پر ہی پیش کیا جاتا ہے جبکہ اس میں پیغمبرانہ حکمت کے ان عناصر کا ایک مادی تعبیر کے طور پر بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو معاشرتی انصاف پر مرکوز ہیں ۔اگرچہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مارکسی رہنماؤں اور دانشوروں کے ہاں مذہب اور انبیاء کے بارے میں بیانات عمومی طور پر تنقیدی ہی رہے ہیں۔سرمایہ دارانہ جمہوریت اور مارکسزم کے تاریخی ،تہذیبی اور فلسفیانہ پس منظر کا غیر جانبدارانہ مطالعہ سے مارکسزم کا محرک پیغمبرانہ حکمت کے خلاف سرمایہ دارانہ جمہوریت اور استعماری سیکولرزم کی بقا کے لیے سیاسی بندوبست
استمراری لگتا ہے۔

تنقیدی جائزہ:

میں نے اپنے نقطہءنظر کو ایک واضح تاریخی اور فلسفیانہ فریم ورک میں پیش کیا ہے۔اس کے تین اہم نکات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔

1. مو ضوع کا مرکزی نظریہ:

“سیاسی بندوبست”

میری رائے میں مارکسزم کو صرف ایک معاشی نظریہ سمجھنا غلط فہمی ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک وسیع تر “سیاسی بندوبست” کا حصہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

۔۔۔سرمایہ دارانہ جمہوریت اور مارکسزم دونوں ایک ہی جدیدیت کے دو متبادل اور متحارب پروجیکٹ ہیں۔

۔۔۔یہ دونوں اپنی جڑوں میں سیکولر ہیں اور مذہبی بیانیے، خاص طور پر پیغمبرانہ انقلابکی تاریخی روایت
(Prophetic revolutionary tradition)

کو یکسر نظر انداز کرتے یا اس کے مقابلے پر کھڑے ہیں۔

اس طرح، تاریخ میں زندگی اور فطرت کی عالمگیر ابدی سچائیوں اور انسانی اقدار کی جدوجہد کے میدان کو “سرمایہ دارانہ سیکولر ازم” اور “مارکسی سیکولر ازم” کے درمیان ہی محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کا اصل اور اولین ورثہ (یعنی انبیاء کی جدوجہد) اس بحث سے باہر کر دیا گیا ہے۔

2. تاریخی اور تہذیبی سیاق و سباق

میری رائے میں، ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ یہ ظاہر کرے گا کہ:

۔۔۔ مارکسزم کا محرک:

اگرچہ مارکسزم سرمایہ داری کے خلاف ایک بغاوت تھی، لیکن اس کا فلسفیانہ و تہذیبی ڈی این اے بھی مغربی سیکولر فکر میں رچا بسا ہے۔ اس نے مذہب کو “افیون” قرار دے کر پیغمبرانہ حکمت کے پورے دائرے کو ہی مسترد کر دیا۔

۔۔۔سرمایہ دارانہ جمہوریت کا محرک:

یہ نظام فرد کی آزادی اور جمہوریت کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن اس کی بنیاد بھی معیشت اور ریاست کے سیکولر ماڈل پر ہے، جس میں مذہب کو نجی شعبے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔

یہ دونوں نظام درحقیقت ایک دوسرے کو جنم دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف اپنی شناخت قائم کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ “انصاف کی جدوجہد” کی عظیم تاریخی روایت، جس کی بنیاد انبیاء کرام نے رکھی، جدید دنیا کی مرکزی بحث سے خارج ہو کر رہ گئی۔

3. “استعماری سیکولر ازم” کا کردار

اس نقطہءنظر میں “سیاسی بندوبست” کو “استعماری سیکولر ازم کی بقا” سے جوڑا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے:

· نوآبادیاتی دور میں یورپی طاقتوں نے جو سیکولر سیاسی نظام مسلط کیا، اس کی بنیاد پر ہی سرمایہ دارانہ جمہوریت اور اس کے رد عمل کے طور پر مارکسزم نے جنم لیا۔
اس لیے، عالمی سطح پر انصاف کی بحث انہی دو سیکولر دھڑوں (سرمایہ دارانہ اور مارکسی) کے درمیان گھومتی رہتی ہے، اور مذہبی بنیادوں پر انصاف کی آواز کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اسے “قدامت پسندی” کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

خلاصہءگفتگو:

یہ نقطہءنظر کہ

“مارکسزم اور سرمایہ دارانہ جمہوریت درحقیقت ایک ہی سیکولر تہذیبی Paradigm کے دو حریف مظاہر ہیں، جنہوں نے پیغمبرانہ انقلاب کے تاریخی ورثے کو دبانے کا کام کیا”،
ارباب علم و دانش کو دعوت فکر دیتا ہے۔ یہ ایک گہرا، اصلاحی اور نئی فکر کو جنم دینے والا نقطہ نظر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *