اشرافیہ کا المیہ

اشرافیہ کا المیہ
کسی بھی قوم کی  اشرافیہ کے دفتر فضیلت میں دولت وطاقت شہرت و موروثیت کے سوا کیا رکھا ہے۔لیکن اس متاع غرور کا کیا کرنا جو عارضی بھی ہے، فانی بھی، ناپائیدار بھی۔ ہر
پیغمبرانہ دعوت عقل و ایماں کا امتزاج اور استحصالی نظام کی پرجوش نقاد رہی ہے۔ مادیت پرستی کا شکار اشرافیہ کو   پیغمبرانہ حکمت نے   ایک  انگیز
دعوت پیش کی  جو آج کی عالمی و مقامی اشرافیہ سے بھی مخاطب ہے۔
” انسانی زندگی مادی شرف و فضیلت سے بہت اگے بھی جا سکتی ہے۔  مادی متاع غرور عارضی ہے، فانی ہے ،محدود ہے اصل متاع حیات خدا طلبی اور خلق پروری ہے۔
انسانی زندگی ادمی سے اگے بھی کمال و سعادت کی صدہا منازل رکھتی ہے۔آدمی سے انساں ،انساں سے انسان برتر
لیکن ویلتھ اینڈ پاور کلچر کی رومانی ماحول میں دعوت حق اکثر صدا بصحرا ہی رہی ہے۔
 حقیقت ہے تکبر کی دنیا میں ادمی کو انسان بننا کہاں نصیب ہوتا ہے۔
جب بھی پیغمبرانہ دعوت پیش کی گئی،مادہ پرستی کی خوگر اشرافیہ بھڑک اٹھی اور انبیاء اور رسل کی سخت ترین حریف بن گئی۔
 تاریخ انسانی کی تمام بڑی تہذیبوں میں اس کی متعدد مثالیں مل سکتی ہیں۔ سقراط کو اس دعوت حق کی پاداش میں زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ افلاطون کو پہلے قید کر دیا گیا پھر غلام بنا کر بیچا گیا ،ارسطو نے یہ کہہ کر شہر چھوڑ دیا کہ میں نہیں چاہتا ایتھنز میں پھر سقراط کی تاریخ دہرائی جائے۔
بر صغیر میں صدیاں گزر چکی ہیں ہم عہد بہ عہد تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ مسلم اشرافیہ کا شعور مادی سطح فضیلت سے ذرہ برابر بھی بلند نہ ہو سکا۔ یہ طبقہءاشرافیہ اج بھی
“شیر کی ایک دن کی  زندگی اور گیدڑ کی صد سالہ زندگی”
کے درمیان فرق و تمیز کرنے سے قاصر ہے۔ اشرافیائی غرور اج بھی ارفع زندگی، ارفع علم، ارفع سیرت اور ارفع دانش کی ذرہ برابر تجلی کی تاب نہیں لا سکتا ۔
وقت کے فرعون کی خدائی کو  خراج بندگی پیش کرنے کے لیے  تمام قارون و شداد جمع ہو جاتے ہیں۔گویا اس دنیائے فانی میں ہی اشرافیائی متاع غرور موت سے پہلے ہی آسودہءخاک ہوجاتی ہے۔ لیکن کثیر  مجبور و ناتواں خلق خدا کا پرسان حال ہونا نصیب نہیں  ہوتا۔
 دریں حالات خلق خدا نصرت خداوندی کی منتظر رہتی ہے۔
“کب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے”
 شاید اج ملت اسلامیہ اور پاکستانی عوام اسی کرب و احساس سے گزر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *