اصول احسان اور جدید معروضی فلسفہ
(تقابلی جائزہ )
حتمی طور پر دیکھا جائے تو اصولِ احسان اور جدید معروضی فلسفہ دو بالکل مختلف تہذیبی و وجودی زاویۂ نظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔جدید معروضی فلسفہ کائنات کو ایک قدر سے خالی میکانکی نظام سمجھتا ہے، جہاں علم کا مقصد فہم نہیں بلکہ کنٹرول، اور آزادی کا حاصل اخلاقی ذمہ داری کے بجائے طاقت اور اختیار بن جاتا ہے۔
اس کے برعکس اصولِ احسان کائنات کو ایک زندہ اخلاقی نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں وجود کا مفہوم فیض یابی اور فیض رسانی کے مسلسل عمل میں پوشیدہ ہے۔ یہاں علم شعور کے بغیر نامکمل، آزادی خدمت کے بغیر کھوکھلی، اور مذہب انسانیت کے بغیر محض شناخت بن جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔جدید فلسفہ انسان کو باخبر، خودمختار اور بااختیار تو بناتا ہے، مگر اسے اخلاقی طور پر مہربان اور ذمہ دار نہیں بنا پاتا؛ جبکہ احسان انسان کو محض جاننے والا نہیں بلکہ فیض پہنچانے والا وجود بناتا ہے، جو فرق، اختلاف اور تنوع کے باوجود رحمت کو مرکز بناتا ہے۔
۔۔۔۔۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ جہاں جدید معروضی فلسفہ انسان کو دنیا میں رکھ دیتا ہے، وہیں اصولِ احسان اسے دنیا کے لیے نفع بخش بنا دیتا ہے، اور یہی فرق مذہب کو سیاست کا ایندھن بننے سے بچا کر اسے پیغمبرانہ حکمت اور انسانی نجات کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔