فکری خود مختاری کا مقدمہ

فکری خود مختاری کا مقدمہ

محترم جلیل عالی صاحب کا مغربی تھیوری کاروں سے شکوہ بجا ہے، مگر دراصل جس امر نے اس کے جوہرِ تحقیق اور مزاحمتی شعور کو سب سے زیادہ مشتعل کیا ہے وہ مغرب سے برآمد ہونے والی جدید تنقیدی تھیوریز کا وہ غیر مشروط اور غیر ناقدانہ قبولِ عام ہے جو ہمارے اردو ادیبوں، شاعروں اور ناقدوں میں رواج پا چکا ہے۔ بغیر کسی فکری تمحیص، تہذیبی تناظر اور حکمی جانچ کے، ان تھیوریز کو مشرقی—بالخصوص اسلامی—حکمت پر منطبق کرنا محض علمی سادگی نہیں بلکہ ایک گہری فکری غفلت کا مظہر ہے۔ یہ رویہ دراصل مشرقی اسلامی حکمت کی اس مضبوط فصیل میں، جو صدیوں کے فکری ارتقا، اخلاقی تجربے اور روحانی بصیرت سے تعمیر ہوئی ہے، فکری استعماریت کی ایک وسیع نقب زنی کے مترادف ہے—ایسی نقب زنی جو عسکری یا سیاسی نہیں بلکہ علمی، اصطلاحی اور تنقیدی ضابطوں کے ذریعے عمل میں آتی ہے، اور بالآخر اپنی ہی تہذیبی روایت کو اجنبی معیاروں کے سامنے بے دست و پا کر دیتی ہے۔

یہ نکتہ انتہائی فیصلہ کن ہے اور دراصل جلیل عالی کے مضمون کے اصل ہدف کو واضح کرتا ہے۔

جلیل عالی کے نزدیک تھیوری کاروں کی شناخت

جلیل عالی اپنے مضمون میں جدید تھیوری کاروں کو محض تنقیدی اوزار استعمال کرنے والے اہلِ علم نہیں بلکہ ایک مخصوص فکری رویّے کے نمائندہ کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک تھیوری کاروں کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ ہر تھیوری کے درست یا نادرست مطالبات اور اس کے محاکمے میں اپنی فکری و تہذیبی روایت کے روشن ترین پہلوؤں کو بھی بلا تردد کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس عمل میں خود احتسابی کے بجائے ایک ایسی فکری خود سپردگی کارفرما ہوتی ہے جو مقامی روایت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کرتی ہے۔

جلیل عالی کے مطابق تھیوری کار اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ کوئی ایک تھیوری ہر فن پارے کی فکری و فنی گہرائی، اس کی تہذیبی معنویت اور اس کی قدر و قیمت کے تعین کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ اس تصور کے تحت فن پارے کو اس کے اپنے داخلی نظامِ معنی اور تہذیبی سیاق سے کاٹ کر ایک مجرد نظریاتی سانچے میں فِٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تخلیق کی انفرادیت اور معنوی کثرت تحلیل ہو جاتی ہے۔

وہ اس امر کی بھی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگرچہ تھیوری کار ہماری تہذیب کے بعض انتہائی قیمتی اور نازک معنیاتی علاقوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، مگر انہیں اس عجز کا شعور نہیں ہوتا۔ اس لاعلمی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ انجانے میں ہماری کثیرالجہات تہذیبی اور تخلیقی روایت کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتے ہیں جو اس کی داخلی پیچیدگی اور معنوی تہہ داری کو مسخ کر دیتا ہے۔

جلیل عالی کے نزدیک تھیوری کاروں کا ایک اور نمایاں رویہ یہ ہے کہ جب کسی تھیوری کی حد یا عجز کی نشان دہی کی جاتی ہے تو فوراً اس اعتراض کو “تہذیبی خوف” یا “قدامت پسندی” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یوں سنجیدہ علمی مکالمے کے بجائے ایک اخلاقی برتری کا دعویٰ سامنے آتا ہے جو اختلاف کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔

ان کی نظر میں فکری استعماریت کی انتہا یہ ہے کہ ہماری تہذیبی روایت انسان کے باطن و ظاہر میں خیر و شر کی کشمکش کو ایک بنیادی حقیقت تسلیم کرتی ہے اور تخلیق کار کے لیے اپنے شعورِ خیر کا مکلف ہونا ایک فضیلت شمار کرتی ہے، مگر تھیوری کار اسی تصور کو فسطائیت یا جبر کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ اس طرح اخلاقی ذمہ داری کو طاقت کے جبر میں تبدیل کر کے پیش کیا جاتا ہے، جو تہذیبی معنویت کی سنگین تحریف ہے۔

جلیل عالی کا بنیادی سوال

ان تمام نکات کے تناظر میں جلیل عالی تھیوری کاروں سے ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال اٹھاتے ہیں:

کیا ہمارے اہلِ علم اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ استعماریت ہو یا نو استعماریت، دونوں دوسروں کی فکر، اقدار اور تخلیقی رویّوں کو اپنے مزعومہ مفادات سے ہم آہنگ فکری سانچوں میں ڈھالنے کے لیے نہایت باریک، تدریجی اور بظاہر غیر جارحانہ تدابیر اختیار کرتی ہیں؟
یہ سوال دراصل تھیوری کے استعمال نہیں بلکہ تھیوری کی سیاست (Politics of Theory) پر ضرب لگاتا ہے۔ جلیل عالی کے نزدیک مسئلہ مغربی تھیوری سے استفادہ کا نہیں، بلکہ اس کے غیر تنقیدی، غیر تہذیبی اور غیر مشروط اطلاق کا ہے، جو رفتہ رفتہ فکری خود مختاری کو مجروح کرتا ہے۔

جلیل عالی کا موقف اردو تنقید میں ایک اہم یاددہانی ہے کہ تھیوری محض علم نہیں بلکہ طاقت بھی ہو سکتی ہے، اور طاقت جب تہذیبی شعور سے عاری ہو جائے تو وہ علم کے نام پر استعماریت کی نئی صورتیں پیدا کرتی ہے۔ ان کی تنقید اردو ادب کو اس خطرے سے آگاہ کرتی ہے کہ اگر تنقیدی عمل اپنی تہذیبی بنیادوں سے کٹ جائے تو وہ تخلیق کی تفہیم کا وسیلہ نہیں رہتا بلکہ استعماری ثقافت کے فکری و معنوی سانچوں کو تقویت دینے کا آلہ بن جاتا ہے۔

( اکرم الوری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *