انسان کو اپنی مملکتِ وجود کا سلطانِ عادل ہونا چاہیے

نقطہءنظر
انسان کو اپنی مملکتِ وجود کا سلطانِ عادل ہونا چاہیے۔

یہی اُس سوال کا حقیقی جواب ہے کہ حُسنِ باطن کیسے پیدا ہوتا ہے؟

انسان کی فطرت مختلف، متضاد اور بعض اوقات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے رجحانات کا مجموعہ ہے۔
اگر ان رجحانات کو بے مہار چھوڑ دیا جائے تو نفس میں انتشار پیدا ہوتا ہے اور بدسیرتی جنم لیتی ہے۔
لیکن جب انہی قوتوں میں ترتیب، توازن، ہم آہنگی اور باہمی وحدت قائم ہو جائے تو یہی باطنی تنظیم حسنِ سیرت کو جنم دیتی ہے۔

اسی مقام پر وجود کے اندر نکتۂ ایمان روشن ہوتا ہے—
جیسے کوئی سلطانِ عادل اپنی مملکت میں امن، عدل اور مسرّت کا نظام قائم کرتا ہے،
اسی طرح انسان بھی اپنی داخلی مملکت میں عدل اور نظم قائم کر کے باطنی حسن کو پیدا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *