فلسفیانہ و اصولی فکری مکالمہ
:موضوع
خلقِ قرآن: عقلِ بےمہار کی خناسیت، عباسی فکری سیاست اور علمُ الغایات کی ازسرِنو بازیافت
اسلامی فکری روایت میں “خلقِ قرآن” کا مسئلہ محض ایک کلامی تنازع نہیں تھا بلکہ ایک بڑے فلسفیانہ بحران کا ظہور تھا۔
وہ بحران جس میں دین کو علمُ الحقائق (Ontology) کے چشمے سے دیکھا گیا اور علمُ الغایات (Teleology) کی قرآنی حکمت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
یہ بحران اتنا شدید تھا کہ اس نے نہ صرف مذہبی فکر کو منتشر کیا بلکہ سیاسی جبر، فکری بے سمتی، اور علماء و سلاطین کے درمیان کشمکش کو بھی جنم دیا۔
چنانچہ “خلقِ قرآن” کے المیے نے یہ بنیادی حقیقت آشکار کردی کہ: جب عقل اپنی حدود سے نکل کر وحی کے مقصودی منہاج سے جدا ہو جائے تو وہ خناسیت کا شکار ہو جاتی ہے،
اور اس خناسیت سے نجات کا واحد راستہ قرآن کی علمُ الغایات پر مبنی حکمت کو مرکزِ فکر بنانا ہے۔
1. عقلِ بےمہار اور خلقِ قرآن کا بحران — ایک اصولی تجزیہ
خلقِ قرآن کے مسئلے کی جڑ یہ تھی کہ اسلامی الہیات کو ارسطوئی منطقی اور وجودیاتی فریم ورک میں بند کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں چند بنیادی مغالطے پیدا ہوئے:
(1) قرآن کو “جوہر”، “عرض”، “قدیم” اور “حادث” کے خانوں میں رکھ کر پڑھا گیا
یہ تمام اصطلاحات خالص یونانی ما بعد الطبیعیات کی پیداوار تھیں۔
قرآن ان خانوں میں نہیں بولتا۔
معتزلہ نے عقل کی بنیاد پر یہ فرمایا کہ کلامِ الٰہی “حادث” ہے،
جبکہ اہلِ حدیث و اشاعرہ نے کہا کہ وہ “قدیم” ہے۔
لیکن دونوں اس بنیادی بات سے دور ہو گئے کہ:
قرآن نے کبھی یہ سوال اٹھایا ہی نہیں کہ “کلام کی حقیقت کیا ہے؟”
قرآن نے صرف یہ بتایا ہے کہ “خدا نے انسان سے خطاب کیوں کیا؟”
(2) عقل جب وحی کے مقصدی فریم سے جدا ہو جائے تو “خناسیت” پیدا ہوتی ہے
قرآن عقل کا انکار نہیں کرتا،
بلکہ اسے ہدایت کی شعاعوں کے اندر رکھ کر استعمال کا حکم دیتا ہے:
“اَفَلَا تَعْقِلُوْن” — عقل کو برتنے کی دعوت
لیکن ساتھ ہی
“فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰی” — خواہش اور خناسیت سے بچنے کی تنبیہ
عقل وحی کے بغیر جب اپنے منطقی تصورات بناتی ہے تو یہ تصورات آخری حقیقت کے بجائے توہمات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
خلقِ قرآن کا واقعہ اسی خناسیت کا مظہر تھا۔
2. خناسیت سے نجات — علمُ الغایات کا قرآنی اصول
قرآن اپنی اصل میں teleological text ہے—
یعنی اس کی ساری ہدایت غایت، مقصد، حکمت، انجام اور عمل پر مبنی ہے۔
قرآن میں واضح اصول ہے:
1. ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے — ہدایت کا نظام
2. ہر قوم کے لیے ایک کتاب ہے — علم کا نظام
3. ہر قوم کے لیے ایک اجل ہے — عدل و انجام کا نظام
یہ تین اصول قرآن کی علمُ الغایات کی بنیاد ہیں۔
قرآن کا مقصد انسان کو “حقیقتِ جوہر” بتانا نہیں
بلکہ:
عدل قائم کرنا ,معاشرے کی اصلاح ,اخلاق کی تطہیر
اور حاکمیتِ الٰہیہ اور ربوبیتِ عامہ کو کھول دینا ہے. قرآن کی ہدایت انسان کو “کائنات کی Ontology” نہیں سکھاتی،
بلکہ “زندگی کی Teleology” دیتی ہے۔
یہی اصول غزالی، ابن رشد، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ نے واضح کیا:
غزالی: الٰہیات کا مسئلہ مقصد سے ہٹ کر “ذات کی کنہ” کی طرف چلا گیا، جو انسان کے بس میں نہیں۔
ابن رشد: شریعت کی زبان مقصدی ہے، وجودی نہیں۔
ابن تیمیہ: اصل مسئلہ “کیفیت” نہیں “ہدایت” ہے۔
شاہ ولی اللہ: قرآن کے معانی ان غایات کے بغیر نہیں سمجھے جا سکتے جن کے لیے وہ نازل ہوا۔
لہٰذا علمُ الغایات کی بازیافت قرآن کے اصل منہاج کی بازیافت ہے۔
3. عباسی سیاست، معتزلہ کی خواہش اور دین کا بگاڑ
قرآن کا مقصد تو حاکمیتِ الٰہیہ اور ربوبیتِ عامہ کے اصولوں سے انسانی قلوب کی آبیاری اور اخلاقی تربیت تھا،
:لیکن عباسی دور میں
سیاسی اشرافیہ کی خواہش یہ تھی کہ:
..عقیدہ ایک سیاسی آلہ بن جائے
..عقل مذہبی اقتدار کا جواز پیدا کرے
..خلقِ قرآن کے ذریعے فکری مرکزیت قابو میں رہے
مذہبی معتزلہ کی خواہش یہ تھی کہ:
…عقلی الہیات کو ریاستی اتھارٹی کے ذریعے نافذ کیا جائے
…عقل کو مطلق بنایا جائے
…فلسفیانہ اصول “ایمان” کا دوسرا نام بن جائیں
یوں فرض اور خواہش کے درمیان کشمکش پیدا ہو گئی
— اور اس کشمکش نے پوری تہذیب کے باطن میں فساد پیدا کیا۔
جب غایت گم ہو جائے تو فساد پیدا ہوتا ہے
غایت کے بھٹکنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ:
علم کا باطن بگڑا,عقیدہ فلسفے کے تابع ہو گیا,عمل بےروح ہو گیا
اور دین سیاسی طاقت کا آلہ بن گیا یہ وہی مرحلہ تھا جب فتنہ و شر کے دروازے کھلے۔
4. قرآن کا قانونِ اجل — تاریخ کا عدل الٰہی
:قرآن کا اصول ہے
“جب کسی قوم پر اس کی اجل آتی ہے، تو نہ ایک لمحہ آگے ہوتی ہے نہ ایک لمحہ پیچھے” (الاعراف 34)
اجل کا یہ قانون بتاتا ہے کہ
کوئی قوم صرف “فلسفیانہ غلطی” سے نہیں گرتی
قوم اس وقت گرتی ہے جب باطن کا فساد حد سے بڑھ جاتا ہے
اور جب سیاسی و مذہبی اشرافیہ
خواہش کو فرض پر غالب کر دے
عباسیوں کے زوال کا ایک بنیادی سبب یہی کشمکش تھی۔
5. خلاصہ اور اصولی نتیجہ
(1) خلقِ قرآن کا مسئلہ عقلِ بے زمام کے سبب پیدا ہوا۔
عقل جب قرآنی مقصدیت کے بجائے فلسفیانہ وجودیات میں کھو جائے تو خناسیت اسے گھیر لیتی ہے۔
(2) نجات کا واحد راستہ قرآن کے علمُ الغایات کو مرکز بنانا ہے۔
یعنی غایت، مقصد، عدل، ہدایت اور تزکیہ۔
(3) کتاب کا مفہوم کتاب سے اخذ کیا جائے، فلسفے سے نہیں۔
قرآن سے باہر کا فلسفہ قرآن کی تعبیر کا حاکم نہیں بن سکتا۔
(4) قوموں کی ہلاکت کا اصل سبب سیاسی و مذہبی اشرافیہ کا باطنی فساد ہے۔
جب خواہش فرض پر غالب آ جائے تو اجل قریب آ جاتی ہے۔
(5) حاکمیتِ الٰہیہ اور ربوبیتِ عامہ ہی قرآن کا مقصود ہے،
نہ کہ مذہبی اتھارٹی کا جبری ۔