نقطہء نظر 

نقطہء نظر 
” اج مغرب کی علمی  اجارہ داری جس نقطہ کمال کو پہنچ چکی ہے اس میں فلسفیوں ،سائنس دانوں،معاشیات و سیاسیات کے ماہرین،اور ادیبوں کے کردار  پر ہی بحث کی جاتی ہے لیکن  اس  علمی ارتقاء کے  تاریخ میں سفلی علوم کے کاہنوں کی کوششوں کو بالکل یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے شاید اس لیے کہ وہ پس پردہ بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔اگر سفلی علوم کے کاہنوں کا اس علمی ارتقا میں کوئی کردار نہ ہوتا تو جدیدیت کے بنیاد گزاروں کو کبھی بھی  ارفع تصوف اور حکمت ابن عربی کے خلاف وہابیت کو تخلیق کرنے کی ضرورت پیش نہ اتی۔”
:وضاحت
 مجھے اپنے نقطہ نظر کی صحت پر اتنا یقین ہے کہ میں اپنے مطالعہ و تحقیق کی روشنی میں یہ بات دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ
” جدیدیت کے سائنسی و فلسفیانہ ارتقا میں صرف روشن خیال مفکرین، سائنس دانوں یا ادیبوں کی کوششیں نہیں بلکہ سفلی علوم کے ماہرین (کاہنوں، occultists) کا بھی گہرا مگر پوشیدہ کردار ہے، جسے فکری دنیا نے یا تو نظرانداز کیا ہے یا دانستہ چھپایا ہے۔”
:نقطہءنظرکی فکری، تاریخی اور تہذیبی جہتیں
 جدیدیت کا ظاہری بیانیہ1 
عام طور پر جدیدیت کو رینے ڈیکارٹ، کانٹ، ہیوم، نیوٹن، گیلیلیو جیسے فلسفیوں اور سائنس دانوں سے منسوب کیا جاتا ہے اور یہ “عقل پرستی، سائنسی تجربہ، انسانی آزادی” جیسے نعروں پر مبنی بیانیہ ہے۔
 لیکن یہ صرف ظاہر کا بیانیہ ہے جسے قابلِ قبول، سائنسی اور “آزاد خیالی” کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے۔
2. “سفلی” بیانیہ — جسے دبایا گیا:
 میاں نقطہءنظر “باطنی تاریخ” کی طرف اشارہ کرتا ہےکہ
 اوکالٹ ازم (Occultism)، علم نجوم (Astrology)، کبالہ (Kabbalah)، ہرمیٹک ازم (Hermeticism) اور دیگر سفلی یا پوشیدہ علوم، جنہیں رسمی فلسفہ یا سائنس میں غیر علمی سمجھا جاتا ہے، دراصل جدید مغرب کے کئی تصورات کی نظریاتی بنیاد رہے ہیں۔
: مثالیں
۔۔۔نیوٹن خود سفلی علوم (Alchemy) پر گہرا یقین رکھتا تھا۔
۔۔۔فرانسس بیکن نے “نئے اٹلانٹس” میں سائنسی یوتوپیا کو دراصل باطنی علم کے خواب سے جوڑا۔
Rosicrucians
، Illuminaty, Freemasons
جیسی خفیہ تحریکوں نے جدید سیاسی و علمی ڈھانچوں کی تشکیل میں غیرمعمولی کردار ادا کیا۔
اس گفتگو کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کچھ ماہرینِ تاریخ کے نزدیک Enlightenment خود کچھ باطنی حلقوں کے ایجنڈے کے تحت آگے بڑھی۔
3. تصوف و حکمت کے خلاف ردعمل، محض مذہبی نہیں، سیاسی تھا۔
یہ نقطہءنظر کہ اگر سفلی علوم کے ماہرین اس ارتقاء میں شریک نہ ہوتے، تو ابن عربی افکار کے خلاف وہابیت جیسا “تحریک نما شدید ردعمل” وجود میں نہ آتا۔
یہ بات  تہذیبی و روحانی جہت سے بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔
وہابیت، محض ایک “تحریکی اصلاح” نہ تھی بلکہ تصوف کے روحانی، غیر مرکزی اور آزاد شعور کو کچلنے کی سفارتی، استعماری اور فکری سازش بھی تھی۔اس کا ظہور استعمار کے سامراجی اہداف اور “علم و روحانیت کے متبادل مراکز” کے خاتمے سے بھی جڑا ہوا  ہے۔
 یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اس سارے منصوبے میں
علم کو صرف مادی ترقی کا ذریعہ بنانا، روحانیت، باطن، اور معرفت کے چشمے خشک کرنا،
غیبی علم کو “غیر معقول” اور ناقابلِ قبول قرار دینا اور ساتھ ہی سفلی علم کو چھپ کر فروغ دینا ،یہ سب کچھ ایک متضاد مگر مربوط تاریخی عمل کی شکل میں پیش آیا۔
اگر جدیدیت کی ظاہری ترقی (سائنس، فلسفہ، ٹیکنالوجی) اور اس کے باطنی عناصر (اوکالٹ، سفلی علم، اشرافیائی سیاست) کو الگ الگ دیکھا جائے، تو ہم کبھی بھی یہ نہیں سمجھ سکیں گے  کہ
۔۔۔جدیدیت کے اصل مقاصد کیا ہیں؟
۔۔۔جدیدیت کا  استحصالی کردار اور اس کی اصل بنیاد کیاہے؟
۔۔۔ اس کے روحانی و تہذیب مخالف رویے کو پوری طرح نہ سمجھیں تو یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس کی علمی اجارہ داری کی سب سے بڑی چال کیا ہے۔
۔۔۔جدیدیت خود کو “روشنی” اور “سچائی” کے نام پر پیش کرتی ہے، جبکہ اس کی اصل بنیادیں سایوں، پردوں اور پس پردہ قوتوں سے جڑی ہوتی ہیں۔
:تجاویز:
۔۔۔ ہم جدیدیت کو صرف فلسفیوں اور سائنس دانوں کی کوششوں کا نتیجہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے پس منظر میں کام کرنے والے خفیہ، سفلی، اور استحصالی ذہنوں کو بھی سمجھیے،
۔۔۔تصوف، حکمت، اور روحانی روایت کے خلاف اٹھنے والے تحریکات (جیسے وہابیت) کو محض دینی اختلافات نہیں بلکہ علمی و تہذیبی بغاوت سمجھا جائے۔
۔۔۔ تحقیقی اداروں کو ان موضوعات پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے جیسے
۔۔۔۔”جدیدیت اور سفلی علوم: مغرب کی مخفی تاریخ”
۔۔۔۔۔”تصوف اور سائنسی استبداد: ابن عربی اور جدیدیت کی کشمکش”
۔۔۔۔۔”علمی اجارہ داری اور ماورائی سیاست: دور جدید کا خفیہ بیانیہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *