میگنا کارٹا کے اشرافیائی خدوخال،استعماری ذہنیت، نوآبادیاتی جمہوریت کی ساخت  نوام چومسکی کے افکار کی روشنی میں سے 

(بسلسلہ طبقاتی کلچر کا نظریہ)
ویلتھ اینڈ پاور کلچر
vs
 مشنری اینڈ پوٹینشل کلچر
موضوع:
میگنا کارٹا کے اشرافیائی خدوخال،استعماری ذہنیت، نوآبادیاتی جمہوریت کی ساخت  نوام چومسکی کے افکار کی روشنی میں سے 
میگنا کارٹا کی اشرافیائی روح کا شرمناک اقدام
میگنا کارٹا کو اکثر انسانی و شہری حقوق کے قیام کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے ایک ایسی انقلابی دستاویز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے بادشاہ کو قانون کے تابع کیا اور طاقت کو عوام کا حق قرار دیا۔ لیکن تاریخی حقائق اس رومانوی بیانیے کی تائید نہیں کرتے۔
اصل میں، میگنا کارٹا (1215) ایک سیاسی معاہدہ تھا، جو بادشاہ جان اور برطانوی مذہبی و سیاسی اشرافیہ کے درمیان طے پایا۔ اس کا مقصد عوامی آزادی نہیں بلکہ اشرافیہ کی جاگیردارانہ مراعات کا تحفظ تھا۔ یہ طاقت کی تقسیم ضرور تھی، لیکن صرف بادشاہ اور بارونز کے درمیان، عوام اس معاہدے کے کسی بھی دائرے میں شامل نہیں تھے۔
جمہوری بیانیہ یا سیاسی پروپیگنڈا؟
ہمارے ہاں اربابِ دانش اور تاریخ نویس میگنا کارٹا کو اکثر ایک فکری انقلاب کے آغاز کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر جدید جمہوریتیں استوار ہوئیں۔ وہ اسے اس اصول کی علامت کہتے ہیں کہ
 “قانون بادشاہ سمیت ہر فرد پر لاگو ہوتا ہے، اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔”
لیکن یہ ایک سیاسی پروپیگنڈا سے زیادہ کچھ نہیں۔ حقیقت میں، میگنا کارٹا صرف اشرافیہ کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ذریعہ تھا۔ اسے مقدس بنا کر پیش کرنا مغربی جمہوریت کو قابلِ قبول بنانے کی ایک شعوری کوشش ہے، تاکہ نوآبادیاتی اقوام اور عوام کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ مغرب ہمیشہ سے انصاف، برابری اور انسانی حقوق کا علمبردار رہا ہے — حالانکہ تاریخی شواہد اس کے برعکس ہیں۔
“مدر آف ڈیموکریسی” اور تاریخ کی تحریف
برطانیہ کو “مدر آف ڈیموکریسی” کہنا اور میگنا کارٹا کو “مقدس دستاویز” قرار دینا خود ایک تاریخی تحریف ہے۔ ہمارے ہاں اس بیانیے کو قبول کرنے والوں میں بھی ایک بڑی تعداد ہے جو اسے تحقیقی دلیل کے بجائے سیاسی عقیدت کے طور پر اپناتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے:
اگر میگنا کارٹا واقعی انسانی حقوق کا سرچشمہ ہوتی، تو پھر ہنری وین جونیئر جیسے مفکرین کو صرف اس لیے پھانسی کیوں دی جاتی کہ وہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ ماننے کا مطالبہ کرتے تھے؟
ہنری وین جونیئر: ایک خطرناک سچ کا مبلغ
نوام چومسکی لکھتے ہیں
 “پارلیمنٹ کے رہنما ہنری وین جونیئر کو اس جرم میں سزائے موت دی گئی کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا جائے۔ سزائے موت کے وقت انہوں نے ایک تقریر پڑھنے کی کوشش کی، جس میں انہوں نے اپنے خلاف فیصلے کو میگنا کارٹا کی خلاف ورزی قرار دیا، لیکن جلوس کے شور و غل میں ان کی آواز کو دبا دیا گیا تاکہ عوام تک یہ شرمناک الفاظ نہ پہنچ سکیں۔”
ان کا “جرم” صرف یہ تھا کہ انہوں نے کہا:
 “طاقت کا اصل ماخذ عوام ہیں — نہ بادشاہ اور نہ ہی خدا۔”
یہی وہ خیال تھا جسے روجر ولیمز نے ریاست روڈ آئی لینڈ میں عملی جامہ پہنایا، جہاں اس نے چرچ اور ریاست کی علیحدگی کا اصول متعارف کرایا — ایک ایسا خیال جو اُس وقت کفر کے مترادف تھا۔
جمہوریت کی خواہش کو کیسے قابو میں رکھا جائے؟
نوام چومسکی کے مطابق
 “عصرِ جدید کی نئی روح یہ ہے: دولت حاصل کرو، سب کچھ بھول کر، سوائے اپنی ذات کے۔”
یہ روح نہ صرف جمہوریت کے اصل تصور سے متصادم ہے، بلکہ اسے سرمایہ دارانہ اطاعت میں بدلنے کی کوشش ہے۔
 برطانیہ اور امریکہ میں مزدوروں نے اس نئی روح کو ایک توہین آمیز اور غلامی سے ملتا جلتا نظام قرار دیا، خاص طور پر وہ خواتین مزدور جو “فیکٹری گرلز” کہلاتی تھیں۔
عوام کو قابو میں رکھنے کی انجینئرنگ
عوامی آزادی کو محدود رکھنے کے لیے نئی صنعتیں اور ادارے وجود میں لائے گئے:
عوامی تعلقات، اشتہار بازی، مارکیٹنگ — ان سب کا مقصد تھا کہ عوام کو فکری و عملی لحاظ سے کنٹرول میں رکھا جائے۔
جیسا کہ تھاراسٹن ویب بلن نے کہا: “خواہشات کو تخلیق کرنا”
والٹر لپ مین نے اسے “رضامندی کی انجینئرنگ” کہا — یعنی عوام کو اس بات پر راضی کرنا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہی بہتر ہے، حالانکہ یہ انہیں سکھایا گیا ہو۔
“عوام تماشائی بنیں، شریکِ کار نہیں”
جمہوریت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے یہ طے کیا گیا کہ:
 “عوام کا کردار ایک مناسب جمہوری معاشرے میں محض تماشائی کا ہونا چاہیے، نہ کہ فعال شریک کار کا۔”
جیسا کہ رالف والڈو ایمرسن نے لکھا
 “عوام کو ہماری گردنوں سے دور رکھا جائے۔”
نوجوانوں کی ذہن سازی: تعلیم یا مطیع سازی؟
تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے کے لیے:
یونیورسٹی فیسوں میں اضافہ ایک ایسا حربہ تھا جس سے نوجوانوں کو قرض کے جال میں جکڑا جا سکے،
تاکہ وہ اپنی ذہنی آزادی کھو بیٹھیں اور نظام کے مطیع بن جائیں۔
خواتین، مقامی اقوام اور قانونی حیثیت
چومسکی کے مطابق:
 “چارٹر آف لبرٹیز کے آرٹیکل 39 میں ‘آزاد آدمی’ کو مقدمے کے بغیر سزا نہ دینے کی بات کی گئی، لیکن یہ ‘آدمی’ صرف مخصوص طبقے کے لیے تھا:
مقامی امریکی افراد “شخص” ہی نہیں سمجھے جاتے تھے؛
خواتین شوہروں یا والد کے تحت قانونی شناخت رکھتی تھیں؛
شادی کے بعد عورت کی قانونی حیثیت ختم یا معطل ہو جاتی تھی — جیسا کہ بلیک اسٹون کے اصولوں میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ صورتحال 1975 تک جاری رہی، جب تک امریکی سپریم کورٹ نے خواتین کو جیوری میں شامل ہونے کا قانونی حق نہیں دیا۔
 حاصل گفتگو: ایک مقدس دھوکہ؟
میگنا کارٹا کو انسانی حقوق کی بنیاد کہنا تاریخی سادہ لوحی ہے۔ یہ ایک اشرافیائی معاہدہ تھا جسے بعد میں سیاسی ضرورت کے تحت “مقدس” بنا دیا گیا۔ آج کی جمہوریت بھی اس “مقدس دھوکے” کے سائے میں سرمایہ دارانہ مفادات کی محافظ ہے، نہ کہ عوامی حقوق کی۔
 حوالہ:
Noam Chomsky — Who Rules the World

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *