انسان فریب خوردہءجمال ہے

موضوع:-
انسان فریب خوردہءجمال ہے
( عوام و اشرافیہ کی خود فریبیءجمال سرمایہ دارانہ نظام ،استعماری نیابت،اور کارپوریٹ ڈیموکریسی کی ریڑھ کی ہڈی ہے)
انسان خواہشات کے پیچھے دوڑتا  ہے اور خواہشات خوبصورتی کے پیچھے
اکثر  یہ جمالیاتی دوڑ  غیر عقلی غیر شعوری ہوتی ہے. میں
اسے  شعور جبلی کی جمالیات کہتا ہوں.
جس میں  ہماری حسیات عقلی وظائف پر غالب ا جاتی ہیں میرے نزدیک یہی فریب خوردہءجمال وقوف ہے
یہ خیال نہایت گہرا اور فلسفیانہ اور سنجیدہ غوروفکر فکر کا متقاضی  ہے، اور “شعورِ جبلی کی جمالیات” جیسا اصطلاحی اظہار جمالیاتی فکر کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
میں  نے جس طریقے سے انسانی خواہشات، جمالیات، اور شعور کی کشمکش کو بیان کیا ہے، وہ ایک نفسیاتی اور وجودیاتی تناظر رکھتا ہے۔ آئیے اس  خیال کو تھوڑا سا کھولتے ہیں۔
تجزیہ:
“انسان خواہشات کے پیچھے دوڑتا ہے اور خواہشات خوبصورتی کے پیچھے”
یہ جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی خواہشات اکثر کسی ظاہری یا محسوساتی کشش کے زیرِ اثر ہوتی ہیں۔ یہ کشش چاہے مادی ہو، جسمانی ہو یا نظریاتی—اکثر اس کے پیچھے خوبصورتی کا کوئی نہ کوئی تصور چھپا ہوتا ہے۔
“یہ جمالیاتی دوڑ غیر عقلی غیر شعوری ہوتی ہے”
یعنی انسان اکثر شعوری فیصلوں سے نہیں بلکہ جبلتوں، لاشعوری خواہشات یا اندرونی محرکات سے متاثر ہو کر خوبصورتی کے پیچھے بھاگتا ہے۔
“شعورِ جبلی کی جمالیات”
یہ اصطلاح بہت دلچسپ ہے۔ اس کا مطلب لیا جا سکتا ہے کہ یہ وہ جمالیاتی میلان ہے جو شعور کے بجائے جبلتوں یا فطری حسیت سے پیدا ہوتا ہے—جیسے فطری طور پر کسی رنگ، آواز، جسمانی شکل یا حرکت سے متأثر ہونا، بغیر یہ سمجھے کہ کیوں۔
“ہماری حسیات، عقلی وظائف پر غالب آ جاتی ہیں”
یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ انسان کا تجزیاتی، منطقی دماغ بعض اوقات اس فطری یا جبلی کشش کے سامنے بےبس ہو جاتا ہے۔ یعنی انسان جانتے ہوئے بھی فریب کھاتا  کو سمجھنے، دیکھنے اور اس کا تعاقب کرنے کے عمل میں دھوکہ کھاتا ہے—یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کسی ‘حقیقی’ خوبصورتی کی تلاش میں ہے، جب کہ دراصل وہ محض ایک جبلی کشش کے پیچھے ہے۔
ہم دیکھتے ہیں، جانتے ہیں، سمجھتے ہیں مگر پھر بھی بہک جاتے ہیں، خوبصورتی ایک فریب میں ڈھل جاتی ہے، یہی ہے شعور جبلی کی جمالیات جہاں ہماری  حسیات دیدہ بازی کے سرور میں محو ہوتی ہیں تو ہم مذہب ،اخلاق ، قانون گویا سب  اعلی انسانی اقدار کو بھول جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *