مسئلہ کیا ہے؟
کیا یہ علمی بدنیتی اور تحقیقی بددیانتی نہیں کہ امریکہ کی تاریخ بیسویں صدی سے اور برطانیہ کی تاریخ 19 ویں صدی سے شروع کی جاتی ہے کیا اس کا مقصد 17 اور 18 صدی میں دونوں اقوام یعنی مغربی اقوام اور اینگلو امریکن کے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنا ہے
مسئلہ کی تحقیق
یہ سوال بالکل بجا ہے: کیا یہ علمی بدنیتی اور تحقیقی بددیانتی نہیں کہ امریکہ کی تاریخ بیسویں صدی سے اور برطانیہ کی تاریخ 19 ویں صدی سے شروع کی جاتی ہے؟
کیا اس کا مقصد 17 اور 18 صدی میں دونوں اقوام یعنی مغربی اقوام اور اینگلو-امریکن کے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنا ہے؟
یقیناً، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ مغربی تاریخ نویسی میں اکثر نوآبادیاتی دور کے ظلم و ستم کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
وجوہات
اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں علمی بدنیتی، قومی مفادات، اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے تاریخ کو اپنے مفاد میں ڈھالنے کی کوششیں شامل ہیں۔
1. نوآبادیاتی دور کے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنا
17ویں اور 18ویں صدی میں برطانیہ اور امریکہ نے دنیا کے مختلف حصوں میں نوآبادیاتی تسلط قائم کیا۔ اس دوران مقامی آبادیوں کے قتلِ عام، غلامی، اور وسائل کی لوٹ مار جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
۔۔۔۔۔مثال کے طور پر، 1626 میں سینٹ کٹس میں کیریبین باشندوں کا قتلِ عام، 1637 میں پی کوٹ جنگ، اور 1675 میں ناراگنسٹ جنگ جیسے واقعات اس دور کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
2. تاریخی تحریف اور قومی مفادات
مغربی ممالک کی حکومتیں اور تعلیمی ادارے اکثر اپنی تاریخ کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان کے نوآبادیاتی جرائم پر پردہ ڈالا جا سکے۔ اس کی ایک مثال۔۔۔اینگلو امریکہ کی تاریخ ہے، جس میں نوآبادیاتی دور کو کم اہمیت دی جاتی ہے اور آزادی کی جنگ کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس سے عوامی سطح پر نوآبادیاتی ظلم و ستم کی حقیقت چھپ جاتی ہے۔
3. تاریخ نویسی میں متوازن نقطہ نظر کی ضرورت
تاریخ نویسی میں متوازن نقطہء نظر اپنانا ضروری ہے تاکہ نوآبادیاتی دور کے ظلم و ستم کو صحیح تناظر میں پیش کیا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہ
