فطرت انسانی کی ثنویت کا مسئلہ
انسانی فطرت گونا گوں متضاد اور متصادم داخلی رویوں اور میلانات کا پیچیدہ مجموعہ ہے۔ اس لیے فطرت انسانی کا مطالعہ تاریخ انسانی کے عظیم مفکرین کی تعلیمات کی روشنی میں کرنا ہی ایک معقول ،معتبراور مناسب طریقہ کار ہے۔
فطرت انسانی کیا ہے؟
یہ چینی فلسفے کا مرکزی سوال ہے۔ کنفیو شش ازم میں مخفی قوت کا نظریہTheory) of Potential) یعنی انسان کی داخلی نیکی کا تصور غالب رہا ہے۔
۔۔۔۔۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ فطرت انسانی اچھی ہے ۔نیک ہے۔
فطرت انسانی میں اعلی انسانی صفات کا حامل داخلی فطری میلان پایا جاتا ہے۔کنفیوشش یہ یقین رکھتا ہے۔ کہ خوشگوار ماحول میں یہ داخلی فطری میلان مثالی کیفیات و واردات میں ڈھل سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔انسان اچھا اور نیک ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ بالکل اچھا نہ بھی ہو ۔
Mencian Theory
کے مطابق انسان میں دو متضاد اور متصادم رویے پائے.
1…… محسوسات کی خواہشات
(Sensory desires)
1…..A Sense of Compassion
2….A Sense of Shame & Disdain
3…..A Sense of Respect & Courtesy
4…… A Sense of Right & Wrong
2….. اصل صفات انسانی
Core Human Virtues
1….Benevolence
2….Righteousness
3…..Propriety
4…..Wisdom
1۔۔۔۔۔۔محسوسات کی خواہشات Sensory)
Desires )……ہمارے Sensory Organs کے تابع
ہوتی ہیں۔
2۔۔۔۔ یہ عظیم مفکر مندرجہ بالا متضاد صفات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اس کے نزدیک غور و فکر سے نیکیوں کی نشونما ہوتی ہے اس لیے وہ غور و فکر کرنے کے لیے عوام پر ذمہ داری ڈالتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے نزدیک غور و فکر کرنا دل کی سرگرمی ہے۔ یہ کوئی انکھ اور کان کی سرگرمی نہیں ہے دل احساس اور فکر کی جگہ ہے۔
Seat of feeling & thinking
…….. وہ لوگ جو اعلی فطری صفات رکھتے ہیں ،وہ خود غرضانہ مقاصد کی تکمیل کے باوجود بھی کلی اطمینان حاصل نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔ نیکی سکون و اطمینان پر فوقیت رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ غور و فکر کا فقدان داخلی اخلاقی نشونما کو روک دیتا ہے
انسان میں برائی کیوں پیدا ہوتی ہے۔
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ جب محسوسات کی خواہشات اور حقیقی انسانی صفات کے درمیان فرق و امتیاز باقی نہ رہے۔
۔۔۔۔۔جب مکمل طور پر مناسب سمت میں انسان کے مزاج یا فطری میلانات کی نشوونما نہیں ہوتی ۔دل کو غوروفکر میں مشغول رکھنا چاہیے اور اپنے باطن میں برائی پیدا نہ ہونے دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔وہ لوگ جو اپنی حقیقی انسانی صفات کی نشوونما کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا اپنی اخلاقی تحریکات پر پختگی سے قائم نہیں رہتے ان لوگوں کو ان کی خواہشات سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔
(تحریر۔۔۔اکرم الوری)
