طبقاتی کلچر کا نظریہ

تاریخ انسانی کا عہد با عہد مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہر عہد کے انسان کو تین بنیادی حل طلب علمی و فکری مسائل کا سامنا رہا ہے ۔
اول
کائنات کی صحیح نظریاتی تفہیم کا مسئلہ
دوم
فطرت انسانی کی ثنویت کا مسئلہ
سوم
کائناتی اقدار حیات اور ہمہ گیر خیر خواہی کے اصول پر ایک قابل عمل ضابطہ حیات کی تشکیل کا 222

انسان کے وجود یاتی بحران سے جڑے درج بالا تینوں مسائل کا حل صرف پیغمبرانہ فلسفہ و حکمت اور صوفی ادبیات ہی پیش کر سکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے جب بھی پیغمبرانہ فلسفہ و حکمت کی تعلیمات پر خلوص نیت کے ساتھ عمل کیا گیا انسانی سماج معاشی خوشحالی، سیاسی استحکام اور امن و مسرت کا گہوارہ بنا رہا اور جب بھی پیغمبرانہ فلسفہ و حکمت کی تعلیمات سے صرف نظر کیا گیا انسانی سماج بد امنی اور فتنہ و فساد کا مسکن بن گیا۔تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ ہمارے اس موقف کی تائید اور توثیق کرتی ہے444

کائنات میں حضرت انسان کو بے مثال شرف و فضیلت تخلیقی ذہن اور مکار م اخلاق کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس دانوں فلسفیوں ادیبوں اور دیگر مفکرین نے ہے انسانی تہذیب کو امن و مسرت کا گہوارہ بنانے کے لیے کیسی کیسی ایجادات اور اختراعات کیں۔ سیاسی ،معاشی سماجی ضابطے بنائے گئے ادارے تشکیل دیے گئے، اخلاقی نظام وضع کئے گئے۔ ہر ترقی یافتہ انسانی تہذیب اور سماج انہیں عظیم تخلیقی ذہنوں کا مرہون منت رہے گا۔ کسی کو اس بارے حقیقت کے بارے غلط فہمی یا شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اج انسانی تہذیب اور عالمی انسانی معاشرہ عظمت و ترقی کی جن بلندیوں پر ہے یہ سب تمام اقوام عالم اور تہذیبوں کا مشترکہ کا ورثہ ہے555
اخر انسانی مسائل اور انسانی المیہ کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ یہ سلسلہ ہمارے ترقی یافتہ دور میں بھی بند نہیں ہو پایا ۔اج بھی انسانی المیئے اور مسائل جنم لے رہے ہیں۔
اس کا ایک بڑا واضح سبب یہ ہے کہ یہ انسانی مسائل اور المئے اسمانی افات ہیں نہ ہی یہ تقدیر کا لکھا ہوا ظلم ہے جیسا کہ بعض مذہبی حلقے اور استحصالی قوتیں اس قسم کے عقائد کا پرچار کرتی رہتی ہیں۔

انسان سماجی حیوان بھی ہے، سیاسی حیوان بھی ،انسان معاشی حیوان بھی ہے اور اخلاقی حیوان بھی، انسان عقلی حیوان ہے یعنی انسان اپنے تخلیقی ذہن کو بروئے کار لا کر شاندار سیاسی، معاشی سماجی اخلاقی نظام تشکیل دیتا ہے نافذ کرتا ہے ان کے ثمرات سے سب ہی مستفید ہوتے ہیں لیکن اس کی حیوانیت اس کا تعاقب کرتی رہتی ہے ،کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہمیں

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایک دو جہتی قانون تضاد کائنات کی طرح انسانی باطن میں بھی کار فرما ہے۔ امن و جنگ ،عروج و زوال، اچھائی برائی کے معانی و مفاہیم اس دو جہتی قانون تضاد سے متعین ہوتے ہیں۔
لہذا ہمیں اس دو جہتی قانون تضاد کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ تمام انسانی مسائل اور المیئےخارجی فطری قوتوں کا کیا دھرا نہیں بلکہ انسانی ارادوں اور انسانی اختیار کی پیداوار ہے ۔تعمیری و تخریبی جہتوں کا فیصلہ اور انتجاب انسانی ارادوں اور اختیار انسانی پر منحصر ہوتا ہے۔ انسانی زندگی نیتوں اور اعمال کا مجموعہ ہے انسان اپنی زندگی میں تعمیری و تقدیری تخریبی مقاصد کے انتخاب سے کسی بھی وقت تبدیلی لا سکتا ہے اگر وہ اس کی اہلیت رکھتا ہے۔ مذہبی حلقے اور استحصالی قوتیں یا تو اس قانون تضاد کو تسلیم ہی نہیں کرتی یا پھر اس کی خود ساختہ، خود پسندی پر مبنی تعبیر و تعبیر کرتی ہیں666

طبقاتی کلچر کا نظریہ

بالائی قوتوں کی منفی تخریبی ذہنیت تمام انسانی مسائل اور المیوں کی پیداوار ہے۔ تحقیق مسائل کی جڑوں تک پہنچنے کا نام ہے۔ ہمیں انسانی مسائل اور المیوں کی جڑوں تک پہنچنا چاہیے کیوں کہ اس کے بغیر مسائل کی تفہیم اور ان کا حل ممکن نہیں نہ ہی پائیدار عالمی امن کا قیام ممکن ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ فطرت نے انسان کو تخلیقی ذہن اور اخلاقی بصیرت عطا فرمائی تاکہ انسان قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر اس خطہ ارضی پر بہشتی مسرت کے ساتھ زندگی گزار سکے لیکن مقامی اور عالمی سطح پر بالائی قوتوں کا ایک قلیل مختصر طبقہ تخلیقی ذہن اور فراست انسانی کے ثمرات پر اپنے ہی لئے مختص سمجھتا ہے اور کثیر مجبور و بے اختیار عوام کے استحقاق کو تسلیم نہیں کرتا جن کے خون پسینے سے انسانی تہذیب و ترقی کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔انہیں اس خطہ ارضی کو جنت نظیر بنانے کی بجائے قریہء ابلیس بنائے رکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ بالائی قوتوں کی یہ یہی تخریبی ذہنیت ہے جو تاریخ انسانی کے ہر دور میں مسائل اور المیوں کا سبب رہی ہے ،مسائل اور المیئے
پیدا کرتی رہی ہے، اج بھی پہلے سے زیادہ گھمبیر اور پیچیدہ صورتوں میں انسانی مسائل اور المیئے جنم لے رہے ہیں اج ہم عالمی سماج اور مقامی سماجوں کی طبقاتی تقسیم ،طبقاتی نظام، طبقاتی کشمکش اور طبقاتی کلچر کی ابھرتی ہوئی متضاد اور متصادم صورتوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہاں تو رہے موجودہ انسانی مسائل اور المیوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے گھناؤنے کردار مغربی میں ابھرتی ہوئی سرمایہ دارانہ جمہوریت سرمایہ دارانہ سامراجیت امریکی سیاسی الہیات اور خصوصی طور پر جنوبی ا مشری جنوب مشرقی ایشیا کی ہندو مسلم سیاست سے سرف نظر کر کے نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اسرائیل کے قیام کی کا راستہ عظیم بر صغیر ہند سے ہو کر گزرتا ہے میں اپ کے ساتھ ایک سلسلہء گفتگو کا اغاز کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان مسائل کی واضح تفہیم اور ان کے حل کے لیے اپ کے سامنے اپنا وضع کردہ طبقاتی کلچر کا نظریہ پیش کر سکوں میں نے یہ تمہید اس طبقاتی کلچر کے نظریے کی وضاحت کے لیے پیش کی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *